مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 420 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 420

اب آپ پر یہ واضح کرتا ہوں کہ میںنے مباہلہ سے قطعی طور پر انکار نہیں کیا۔اگر امرمتنازعہ فیہ میں قرآن اور حدیث کی رو سے مباہلہ ہو تو میںسب سے پہلے مباہلہ کے لئے کھڑا ہوں لیکن ایسی صورت میں ہرگز مباہلہ جائز نہیں جب کہ فریقین کا یہ خیال ہو کہ فلاں مسئلہ میں کسی فریق کے اجتہاد یا فہم یا سمجھ کی غلطی ہے۔کسی کی طرف سے عمداً افترا یاد روغ بیانی نہیں۔کیونکہ مجرد ایسے اختلافات میں جو قطع نظر مصیب یا مخطی ہونے کے صحت نیت اور اَخلاق اور صدق پر مبنی ہیں، مباہلہ جائز ہوتا اور خدائے تعالیٰ ہر ایک جزئی اختلاف کی وجہ سے مخطی پر عندالمباہلہ عذاب نازل کرتا تو آج تک تمام اسلام کاروئے زمیں سے خاتمہ ہو جاتا کیونکہ کچھ شک نہیں کہ مباہلہ سے یہ غرض ہوتی ہے کہ ’’ جو فریق حق پر نہیں اس پر بَلا نازل ہو۔‘‘ اور یہ بات ظاہر ہے کہ اجتہادی امور میں مثلاً کسی جزئی میں حنفی حق پر نہیں اور کسی میں شافعی حق پر اور کسی میں اہل حدیث۔اب جب کہ فرض کیاجائے کہ سب فرقے اسلام کے جزئی اختلاف کی وجہ سے باہم مباہلہ کریں اور خدائے تعالیٰ، اس پر جو حق پر نہیں، عذاب نازل کرے تواس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اپنی اپنی خطا کی وجہ سے تمام فرقہ اسلام کے روئے زمیں سے نابود کئے جائیں۔اب ظاہر ہے کہ اس امر کے تجویز کرنے سے اسلام کا استیصال تجویز کرنا پڑتا، وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک جو حامی اسلام اور مسلمین ہے، کیونکر جائز ہو گا۔پھر میں کہتا ہوںکہ اگر اس کے نزدیک جزئی اختلافات کی وجہ سے مباہلہ جائز ہوتا تو وہ ہمیں یہ تعلیم نہ دیتا ۱؎ یعنی اے خدا ہماری خطا معاف کر اور ہمارے بھائیوں کی خطا بھی عفو فرما بلکہ مصیب اور مخطی کا تصفیہ مباہلہ پر چھوڑتا اور ہمیں ہر ایک جزئی اختلاف کی وجہ سے مباہلہ کی رغبت دیتا لیکن ایسا ہرگز نہیں۔اگر اس اُمت کے باہمی اختلافات کا مباہلہ سے فیصلہ ہونا ضروری ہے پھر تمام مسلمانوں کے ہلاک کرنے کیلئے دشمنوں کی نظر میں اس سے بہتر کوئی حکمت نہیں ہو گی کہ ان تمام جزئیات مختلف میں مباہلہ کرایا جائے تاکہ ایک ہی مرتبہ سب مسلمانوں پر قیامت آجائے۔کیونکہ کوئی فرقہ کسی خطا کی وجہ سے ہلاک ہو جائے گا اور کوئی کسی خطا کے سبب سے مورد عذاب و ہلاکت ہو گا۔وجہ یہ کہ جزئی خطا سے تو کوئی فرقہ بھی خالی نہیں۔۱؎ الحشر:۱۱