مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 369
کیا جاتا ہے۔اور میں تو پچیس ۲۵ برس سے برابر خدا تعالیٰ کا الہام پیش کر رہا ہوں۔براہین کا زمانہ ہی دیکھو جو اب اٹھارہ برس کے قریب پہنچ گیا۔اللہ شانہٗ سے شرم کرنی چاہیے۔گواہوں کے دستخط دوسرے صفحہ پر اس ورق کے ثبت کئے گئے ہیں۔مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی، خواجہ کمال الدین بی اے ایل ایل بی، میر ناصر نواب صاحب، سیٹھ عبدالرحمن، حاجی اللہ رکھا جنرل مرچنٹ مدراس، مولوی محمد افضل صاحب سکنہ تھانہ لالہ موسیٰ، سیٹھ اسماعیل آدم تاجر بمبئی، مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی، مولوی قطب الدین صاحب سکنہ بدوملہی، میاں معراج الدین صاحب ٹھیکہ دار لاہور۔شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم۔حافظ احمد اللہ خاں صاحب ناگپوری۔سردار عبدالعزیز خاں صاحب قزلباش۔عبدالرحمن خاں صاحب غزنوی۔مولوی نورالدین صاحب بھیروی۔محمد حسین کا خط مقام بٹالہ۔مورخہ ۲۸؍ فروری ۱۸۹۸ء نمبر ۱۱۴ میاں غلام احمد صاحب خدا آپ کو راہ راست پر لاوے اور ضلالت و الحاد سے نجات بخشے۔السلام علی من اتبع الھدی۔آپ کا خط ۲۸؍ فروری ۹۸ء کو پہنچا۔جس کو میں نے تعجب اور افسوس کے ساتھ پڑھا۔افسوس آپ کے مرید میاں قطب الدین صاحب پر آیا کہ وہ کیا پیام و سوال لے گئے تھے اور کیا جواب لائے اور نہ سمجھے کہ وہ کیا پیام و سوال لے گئے تھے۔اور کیا جواب لائے۔اور نہ سمجھے کہ وہ میرے پیام و سوال کا جواب نہیں ہے۔آپ نے ان پرچھوہ کر دیا۔اُن کی چشم بصیرت کو نابینا کر دیا اس لئے وہ نہ سمجھ سکے کہ وہ جواب مطابق سوال نہیں ہے۔اور یہ امر ان کو بطور پیشگوئی کہہ دیا گیا تھا کہ آپ ان پر چھوہ کر دیں گے جو ظہور میں آیا۔تعجب آپ کی جرأت پر آیا کہ آپ نے اس خط میں اپنے ان ہی پرانے ڈھکوسلوں کا اعادہ کر دیا اور شرم سے کام نہ لے کر یہ خیال نہ کیا کہ جن باتوں کا میں اعادہ کرتا ہوں ان کو تمہارا مخاطب بارہا بدلائل رد کر چکا ہے۔پھر میں اُن کا اعادہ کیوں کرتا ہوں۔اس افسوس اور تعجب کے بطلان پر دوبارہ اعادہ بطلب سوال اعادہ کرتا ہوں۔کیونکہ میاں