مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 339 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 339

مکتوب نمبر۲۰ اس عاجز کے خط مندرجہ بالا کے جواب میں جو شیخ بٹالوی صاحب کا خط آیا وہ ذیل میں مع جواب الجواب درج کیا جاتا ہے لیکن چونکہ وہ جواب الجواب اس طرف سے بٹالوی صاحب کی خدمت میں روانہ کیا گیا ہے۔اس میں ان کے تمام ہذیانات و بہتانات کا جواب نہیں ہے جو ان کے خط میں درج ہیں اور ممکن ہے کہ ان کا خط پڑھنے والے ان افتراؤں سے بے خبر ہوں جو اس خط میں دھوکہ دینے کی غرض سے درج ہیں۔اس لئے ہم نے مناسب سمجھا کہ اس خط کی تحریر سے پہلے شیخ صاحب کے بعض افتراؤں اور لافوں اور بہتانوں کا جواب دیں۔سو بطور قولہ و اقول، ذیل میں جواب درج کیا جاتا ہے۔قولہ: میں قرآن اور پہلی کتابوں اور دین اسلام اور پہلے دینوں کو اور نبی آخر الزمان اور پہلے نبیوں کو سچا جانتا ہوں اور مانتا ہوں اور اس کا لازمہ اور شرط ہے کہ آپ کو جھوٹا جانوں۔اقول: شیخ صاحب! اگر آپ قرآن کو سچا جانتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی صادق مانتے تو مجھ کو کافر نہ ٹھہراتے۔کیا قرآن کریم اور حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا ماننے کے یہی معنی ہیں کہ جو شخص اللہ اور رسول پر ایمان لاتا ہے اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہے اور کلمہ طیبّہ کا قائل ہے اور اسلام میں نجات محدود سمجھتا اور بدل و جان اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں فدا ہے۔اس کو آپ کافر بلکہ اَکْفرَ ٹھہراتے ہیں اور دائمی جہنم اس کے لئے تجویز کرتے ہیں۔اُس پر لعنت بھیجتے ہیں۔اس کو دجّال کہتے ہیں اور اس کو قتل کرنا اور اسکے مال کو بطور سرقہ لینا سب جائز قرار دیتے ہیں۔رہے وہ کلمات اس عاجز کے جن کو آپ کلماتِ کفر ٹھہراتے ہیں اُن کا جواب اس رسالہ میں موجود ہے ہر ایک منصف خود پڑھ لے گا اور آپ کی دیانت اور آپ کا فہمِ قرآن اور فہمِ حدیث اُس سے بخوبی ظاہر ہو گیا ہے۔لکھنے کی حاجت نہیں۔قولہ: عقائد باطلہ مخالفہ دین اسلام و ادیان سابقہ کے علاوہ جھوٹ بولنا اور دھوکا دینا آپ کا ایسا وصف لازم بن گیا ہے کہ گویا وہ آپ کی سرشت کا ایک جزو ہے۔اقول: شیخ صاحب! جو شخص متقی اور حلال زادہ ہو، اوّل تو وہ جرأت کر کے اپنے بھائی پر