مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 315
مکتوب نمبر۸ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد عافاہ اللہ و ایّدہ۔بخدمت محبی اخویم مکرم ابو سعید محمد حسین صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔چونکہ یہ عاجز اپنی دانست میں ناتمام مضمون ازالۃ الاوہام کا آں مکرم کو دکھلانا مناسب نہیں سمجھتا اس لئے اجازت نہیں دے سکتا۔مگر اس عاجز کی رائے میں صرف بیس پچیس روز تک رسالہ ازالۃ الاوہام چھپ جائے گا، کچھ بہت دیر نہیں ہے۔پھر انشاء اللہ القدیر سب سے پہلے یہ عاجز آں مکرم کی خدمت میں بھیج دے گا۔آں مکرم کو معلوم ہوگا کہ درحقیقت ان رسالوں میں کوئی نیا دعویٰ نہیں کیا گیا بلکہ بلا کم و بیش یہ وہی دعویٰ ہے جس کا براہین احمدیہ میں بھی ذکر ہو چکا ہے۔جس کی آں مکرم اپنے رسالہ اشاعت السنۃ میں امکانی طور پر تصدیق کر چکے ہیں۔پھر متعجب ہوں کہ اب پھر دوسری مرتبہ آں مکرم کو دیکھنے کی حاجت ہی کیا ہے؟ کیا وہی کافی نہیں جو پہلے آں مکرم اشاعۃ السنۃ نمبر۶ جلد۷ میں تحریر فرما چکے ہیں۔جبکہ اوّل سے آخر تک وہی دعویٰ، وہی مضمون، وہی بات ہے تو پھر آپ جیسے محقق کی نگاہ میں نیا معلوم ہو۔کس قدر تعجب ہے! یہ عاجز رسالہ ازالۃ الاوہام میں آں مکرم کے ریویو کی بعض عبارتیں درج بھی کر چکا ہے۔اس عاجز نے جو ۵؍ جنوری ۱۸۸۸ء کو خواب دیکھی تھی اُس کی سرخی ’’کمینہ‘‘ تھا۔جس کی حقیقت مجھے معلوم نہیں۔واللّٰہ اعلم بالصَّواب۔پھر بھی میں آں مکرم کو للہ نصیحت کرتا ہوں کہ اس سماوی امر میں آپ کا دخل دینا مناسب نہیں۔مثیل مسیح کا دعویٰ کوئی امر عند الشرع مستبعد نہیں۔اگر آپ ناراض نہ ہوں تو اس عاجز کی دانست میں اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب کے مقابل آپ کی تحریر میں کسی قدر سختی تھی۔خدا تعالیٰ انکسار اور تذلل کو ہمیشہ پسند کرتا ہے اور علماء کے اَخلاق اپنے بھائیوں کے ساتھ سب سے اعلیٰ درجے کے چاہئیں۔جس دین کی حمایت اور ہمدردی