مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 304
اور قدرتیں بشریت کے ارادوں کو مضمحل اور کالعدم کر دیتی ہیں اور پھر جب خوب غور سے سوچیں تو اصل خیر بھی اُنہیں میں ہوتی ہے۔انسان اپنی فطرت سے مستعجل اور زود پسند ہے اور یہی چاہتا ہے کہ جو کل ہونا ہے وہ آج ہی ہو جائے لیکن عادۃ اللہ تانی اور توقف ہے جیسا کہ مدۃ نزول قرآن شریف سے ظاہر ہے۔غرض میرے ساتھ معاملہ حضرت عزہ جل شانہ کچھ ایسا ہے کہ میں مُردہ بدست زندہ ہوں اور اُس کی مصلحت میری مصلحت پر مقدم آ جاتی ہے وہ لوگوں کے لعن طعن کی کچھ بھی پروا نہیں کرتا کیونکہ قادر ہے کہ انجام کار لوگوں کو خوش کر دے اور جس بات کے لئے میرا سینہ کھول دیا ہے اُس کے لئے اُن کا سینہ بھی کھول دے وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیْیٍٔ قَدِیْرٌ۔اور اگر اس عاجز کی کتابوں پر اس صورت سے اعتراض ہو کہ اُن میں بعض جگہ سخت لفظ استعمال کئے گئے ہیں تو میں منطقیو ں کی طرح اُن سے جھگڑنا نہیں چاہتا بلکہ میں سادہ طور پر بیان کرنا کافی سمجھتا ہوں کہ حکیم مطلق نے میرے اجتہاد کو اسی طرف رجوع دیا اور میرے دل میں یہ نقش کر دیا کہ گو بظاہر ایسی تقریریں موجب اشتعال ہونگی مگر ایک عجیب اثر ان میں یہ ہوگا کہ مخالفین کو خوابِ خرگوش سے بیداری حاصل ہوگی اور گو وہ کیسے ہی بدتہذیبی سے پیش آئیں مگر اُن کو ان تالیفات کی طرف، خواہ ردّہی کی نیت سے کیوں نہ ہو، رجوع ہو جائے گا اور اس رجوع کا انجام نہایت مفید ہوگا سو جس بات پر میری رائے قائم کی گئی سو اگرچہ ابھی اُس کے اخیر نتیجہ کا وقت نہیں آیا مگر میں دیکھتا ہوں کہ صدہا ہندو ردّ کی نیت سے میری کتاب کو پڑھتے ہیں اور صدہاہندوؤں کے خیالات پر اثر ہو گیا ہے اور بایںہمہ اس عاجز کی تقریر میں وہ سختی نہیں جس سختی کو ہندوؤںنے ابتدا سے استعمال کیا ہے۔اب قصۂ کوتاہ یہ کہ یہ طرزِ تحریر جس کے اختیار کرنے کے لئے حال تک میرا سینہ کھول دیا گیا تھا اگرچہ وہ کسی معترض کی نظر میں صحیح ہو یا غیر صحیح مگر یہ وہ شے ہے جس پر میرا اجتہاد قائم کیا گیا اور اب میں نے جس قدر درشت الفاظ کو استعمال کیا اُسی قدر کو کافی سمجھا ہے اور آیندہ میں نے بھی قصد کیا ہے کہ ہر ایک بات حلم اور رفق سے بیان کی جائے اور اسی پر خدا تعالیٰ نے میرے دل کو قائم کر دیا ہے۔سو میں جانتا ہوں کہ اس میں بھی ایک حکمت تھی اور اس میں ایک حکمت ہے۔اور جو آںمخدوم نے پہلے خط میں ذکر فرمایا تھا کہ پیشگوئی فرزند کو رسالہ میں درج کرنا مناسب نہیں۔میں نے اب تک آپ کی خدمت میں اس وجہ سے اُس کا جواب نہیں لکھا کہ خدا تعالٰی