مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 274
چشمۂ مسیحی بجواب ینابیع الاسلام بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ وَ نبیّہِ العظیمِ السلام علیکم۔بعد ہذا واضح ہو کہ میں نے آپ کا خط بڑے افسوس سے پڑھا جس کو آپ نے ایک عیسائی کی کتاب ینابیع الاسلام نام کی پڑھنے کے بعد لکھا۔مجھے تعجب ہے کہ وہ قوم جن کا خدا مُردہ۔جن کامذہب مُردہ۔جن کی کتاب مُردہ اور جو روحانی آنکھ کے نہ ہونے سے خود مُردے ہیں۔ان کی دروغ اورپُر افترا باتوںسے اسلام کی نسبت آپ تردّد میں پڑ گئے۔۔آپ کو یاد رہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صرف خدا کی کتابوں کی تحریف نہیں کی بلکہ اپنے مذہب کو ترقی دینے کے لئے افترا اور مفتریانہ تحریروں میں ہر ایک قوم سے سبقت لے گئے۔چونکہ ان لوگوں کے پاس وہ نور نہیں جو سچائی کی تائید میں آسمان سے اُترتا اور سچے مذہب کو اپنی متواتر شہادتوں سے دنیا میں ایک صریح امتیاز بخشتاہے۔اس لئے یہ لوگ ان باتوں کے لئے مجبور ہوئے کہ لوگوں کو ایک زندہ مذہب یعنی اسلام سے بیزار کرنے کے لئے طرح طرح کے افترائوں اور مکروں اور فریبوں اور دھوکہ دہی اور محض جعلی اور بناوٹی باتوں سے کام لیا جاوے۔اے عزیز! یہ لوگ سیاہ دل لوگ ہیں۔جن کوخدا کا خوف نہیں اور جن کے منصوبے دن رات اسی کوشش میں ہیں کہ کسی طرح لوگ تاریکی سے پیار کریں اور روشنی کو چھوڑ دیں۔میں سخت تعجب میں ہوں کہ آپ ایسے شخص کی تحریروں سے کیوں متاثر ہوئے۔یہ لوگ ان ساحروں سے بڑھ کر ہیں جنہوں نے موسیٰ نبی کے سامنے رسیوں کے سانپ بنا کر دکھا دئیے تھے۔مگر چونکہ موسیٰ ؑ خد اکا نبی تھا اس لئے اس کا عصا ان تمام سانپوں کو نگل گیا۔اسی طرح قرآن شریف خدا تعالیٰ کا عصا ہے۔وہ دن بدن رسیوں کے سانپوں کو نگلتا جاتا ہے اور وہ دن آتا ہے بلکہ نزدیک ہے کہ ان رسیوں کے سانپوں کا نام و نشان نہیں رہے گا۔