مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 257
دے کر خدائے واحد لاشریک کی طرف ان کو رجوع دلاؤں اور اندرونی پاکیزگی اور راستبازی کی طرف ان کو توجہ دوں۔چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ لوگوں میں ایک تحریک پیدا ہو گئی ہے اور ہزار ہالوگ میرے ہاتھ پر توبہ کرتے جاتے ہیں اور آسمان سے ہوا بھی ایسی چل رہی ہے کہ اب توحید کے موافق طبیعتیں ہوتی جاتی ہیں اور صریح معلوم ہوتا ہے کہ اب خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ ہے کہ انسان پرستی کو دنیا سے معدوم کر دے۔اس ارادہ کے پورا کرنے کیلئے صد ہا اسباب پیدا کئے گئے ہیں۔افسوس کہ مخلوق پرست لوگ، جن سے مراد میری اس جگہ وہ عیسائی ہیں جو مریم کے صاحبزادہ کو خدا جانتے ہیں، ابھی اپنے مشرکانہ مذہب کی اس ترقی پر خوش نہیں ہوئے جو اَب تک ہوگئی ہے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ تمام دنیا حقیقی خدا کو چھوڑ کر اس ضعیف اور عاجز انسان کو خدا کر کے مانے جس کو ذلیل یہودیوں نے پکڑ کر صلیب پر کھینچا تھا۔اس خواہش کا بجز اس کے اور کوئی سبب نہیں کہ مخلوق پرستی کی عادت نہایت بدعادت ہے جس میں گرفتار ہو کر پھر انسان دیکھتا ہوا اندھا ہو جاتاہے۔مگر پادریوں کی اس قدر دلیری بہت ہی قابل تعجب ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ زمین پر ایک بھی ایسا شخص رہے کہ وہ اس اصلی خدا کو ماننے والا ہو جو ابن مریم اور اس کی ماں کے پیدا ہونے سے بھی پہلے ہی موجود تھا بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ کل دنیا اور کل نوعِ انسان جو آسمان کے نیچے ہے ابن مریم کو ہی خدا سمجھ لے اور اسی کو اپنا معبود اور خالق اور خداوند اور منجی مان لے۔اور میں دیکھتا ہوں کہ ان کے ارادوں کے مقابل پر خدائے ذوالجلال نے بہت صبر کیا ہے۔اس کی عزت ایک عاجز بندہ کو دی گئی۔اس کے جلال کو خاک میں ملایا گیا مگر اُس نے اَب تک صبر کیا کیونکہ جیسا کہ وہ غیور ہے ویسا ہی وہ صابر بھی ہے۔ان ظالم مخلوق پرستوں نے تمام خدائی صفات یسوع ابن مریم کودے دیئے۔اب ان کی نظر میں جو کچھ ہے یسوع ہے۔اس کے سوا کوئی خدا نہیں۔اب سچے خدا کی مثال یہ ہے کہ ایک امیر نے اپنے عزیزوں کیلئے ایک نہایت عمدہ گھر بنایا اور اس کے ایک حصہ میں ایک بستان سرائے تیار کیا جس میں طرح طرح کے پھول اور پھل اور سایہ دار درخت تھے اور اس گھر کے ایک حصہ میں اپنے ان عزیزوں کو رکھا اور ایک حصہ میں اپنا مال و حشمت اور قیمتی اسباب مقفّل کیا اور ایک حصہ بطور سرائے کے مسافروں کیلئے چھوڑا لیکن جب مالک چند روز کیلئے سیر کو گیا تو ایک شوخ دیدہ اجنبی نے اس کے اس گھر پر جو بطور سرائے کے تھا، دخل اور تصرف کر لیااور تمام گھر بجز چند حجروں کے جس میں اس مالک کے عزیز تھے یا جن میں اس مالک