مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 243
یہ پانچ سوال ہیں جن میں بحث ہوگی۔اس بحث کے لئے شرائط مندرجہ ذیل کی پابندی ضروری ہوگی۔۱۔شرط اوّل یہ کہ ہر ایک امر کی بحث کے متعلق جو مندرجہ بالا پانچ نمبروں میں لکھے گئے ہیں۔ایک ایک دن خرچ ہوگا یعنی یہ کہ کل بحث پانچ دن میں ختم ہوگی۔۲۔شرط دوم یہ ہے کہ ہر ایک فریق کو اپنے اپنے بیان کے لئے پورے تین تین گھنٹے موقع دیا جائے گا اور اس طرح پر ہر ایک دن کا جلسہ چھ بجے صبح سے ۱۲ بجے تک پورا ہو جائے گا۔۳۔شرط سوم یہ ہے کہ ہر ایک فریق محض اپنے نبی یا کتاب کی نسبت ثبوت دے گا۔دوسرے فریق کے نبی یا کتاب کی نسبت حملہ کرنے کا مجاز نہیں ہوگا کیونکہ ایسا حملہ محض فضول اور بسا اوقات دل شکنی کا موجب ہوتا ہے اور مقابلہ کرنے کے وقت پبلک کو خود معلوم ہو جائے گا کہ کس کا ثبوت قوی اور کس کا ثبوت ضعیف اور کمزور ہے۔ہاں ہر ایک فریق کو اختیار ہوگا کہ جس جس موقع پر حملہ کا احتمال ہے ان احتمالی سوالات کا اپنے بیان میں آپ جواب دے دے۔۴۔بحث تحریری ہوگی۔مگر تحریر کا یہ طریق ہوگا کہ ہر ایک فریق کے ساتھ ایک کاتب ہوگا۔وہ بولتا جائے گا اور کاتب لکھتا جائے گا اور ہر ایک کے پاس ایک ایسا شخص بھی ہوگا کہ مضمون ختم ہونے کے بعد حاضرین کو سنا دیا کرے گا اور سنانے کے بعد ایک نقل اس کی بعد دستخط فریقِ مخالف کو دی جائے گی۔۵۔یہ بحث بمقام لاہور ہوگی اور آپ کے اختیار میں رہے گا کہ جہاں چاہیں اس بحث کے لئے مجلس منعقد فرما لیں اور جیسا چاہیں مناسب انتظام کر لیں۔۶۔جب اس بحث کے دن ختم ہو جائیں گے تو دونوں فریق میں سے ایک فریق یا دونوں اس مضمون کو بصورت رسالہ چھاپ کر شائع کر دیں گے اور کسی کو اختیار نہیں ہوگا کہ اپنی طرف سے بعد میں کچھ ملاوے۔یہ شرائط ہیں جو ہم نے حضرت مرزا صاحب مسیح موعود سے منظور کرا لئے ہیں اور چونکہ یہ شرائط بہت صاف اور سراسر انصاف پر مبنی ہیں لہٰذا امید ہے کہ جناب بھی ان کو منظور فرما کر مطلع فرمائیں گے کہ ایسی بحث کیلئے کب اور کس مہینے میں آپ تیار ہیں۔ہم درخواست کنندوں کی طرف سے نہایت