مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 233
ایک یادداشت پادری لیفرائے کے لیکچر اور مفتی محمد صادق صاحب کی طرف سے اس کے لیکچر کے بارہ میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ کی ایک یادداشت قادیان بعد از ظہر ۲۴ مئی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا مفصل خط ملا۔امیر علی شاہ کے پاس کی خبر نے مجھے، حضرت کو اور اپنی جماعت کو از بس خوش کیا۔خدا تعالیٰ نے بڑا فضل کیا بھائیوں کے اتفاق اور اس کے لوازم کی خبر نے بہت خوش کیا۔اللہ تعالیٰ استقامت بخشے۔ظہر کے بعد مفتی محمد صادق صاحب لاہور سے آئے ہیں اور عصر کی نماز پڑھ کر واپس چلے جائیں گے۔بشپ صاحب کی تقریر اور اپنی تقریر سب سنائی اور سنایا کہ عام مسلمانوں پر بہت اثر پڑا کہ مرزائی جیت گئے۔اُس نے قرآن کریم سے یہ ثابت کرنا چاہا جیسا کہ عام عیسائی ثابت کیا کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ (ذنب) کا اعتراف کرتے ہیں اور استغفار پڑھتے رہتے تھے۔اس سے ثابت ہوا کہ وہ گنہگار تھے۔مفتی صاحب نے ذنب، جرم اور خطا اور عصیان اور اثم کا فلسفہ بیان کیا اور استغفار کی حقیقت بیان کی۔بشپ تو حیران رہ گیا کیونکہ ان کافروں نے یہ باتیں نہ سنی ہوئی تھیں اور نہ پڑھی ہوئی تھیں۔غرض ان کا جواب نہ دے سکا۔اس جمعہ میں انہوں نے زندہ رسول پر لیکچر دینے کا اشتہار دیا ہے حضرت نے ابھی قلم پکڑ لیا ہے اور زندہ رسول پر اشتہار دینے کی تیاری کر دی ہے اورحکم دیا ہے کہ رات رات یہ اشتہار چھپ جائے اور جمعہ کو عصر کے وقت تقسیم ہو جائے۔عین اسی وقت جب کہ پادری کا لیکچر ختم ہو شہر میں عام جوش پھیلا ہوا ہے۔چنیاں والی مسجد میں اس نئے اشتہار بشپ پر جب کہ مفتی صاحب وہاں سے گذر رہے تھے حاضرین مسجد کو بابا چٹو نے کہا اب اگر اور مسلمان بولے تو ہار کھائیں گے اور مرزائی بولے تو فتح پائیں گے اور معزز مسلمانوں نے بھی صلاح کی ہے کہ جو کچھ ہو اب تو اسلام اور عیسویت کی جنگ