مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 230

مکتوب نمبر۱۱ مشفقی پادری فتح مسیح صاحب! بعد ماوجب مدت کے بعد آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔اگر آپ نے ہزار روپیہ پانے کی کوئی نظیر پیدا کر لی ہے تو بہت خوب ہے لیکن بہتر ہے کہ آپ ایسے عمدہ اور اعلیٰ کتابوں کے حوالہ سے کوئی اشتہار میرے نام شائع کر دیں۔اور یہی مضمون جو خط میں آپ نے لکھا ہے اس میں لکھ دیں اور اگر اشتہار نہیں تو نور افشاں میں چھپوا دیں۔آپ جانتے ہیں کہ میں نے کوئی قلمی تحریر آپ کی طرف نہیں بھیجی بلکہ ہزار روپیہ کا اشتہار چھپوا کر بھیجا ہے۔تو اس صورت میں طریق مقابلہ یہی ہے کہ جیسا کہ میں نے ایک دعویٰ کو چھاپ کر پبلک کے سامنے رکھ دیا ہے اور ہر ایک کو نظر اور غور کرنے کا موقع دیا ہے۔آپ بھی ویساہی کریں اور وہ عمدہ کتابیں جو آپ کی دانست میں اعتماد کے لائق ہیں اور اہل الرائے نے ان پر کوئی جرح نہیں کیا اور نہ ان مفتریات میں سے ٹھہرایا ہے۔ان کا وہ مقام شائع کر دیں۔آپ کی اس میںبڑی نیک نامی ہوگی کیونکہ جب کہ میں اس وسوسہ کے استیصال کیلئے جواب الجواب چھپوا دوں گا اور پبلک کی نظر میں وہ نکما ثابت ہوگا تو گویا پبلک آپ کو ہزار روپیہ پانے کی ڈگری دے دے گی۔اس صورت میں ہر ایک کی نظر میں آپ ہزار روپیہ پانے کے مستحق ٹھہر جاویں گے اور مجھ کو دینا پڑے گا اورنیز اس صورت میں یہ بات بھی یقینی ہے کہ آپ کی اس معرکہ کی فتح کے بعد کچھ ترقی بھی ضرور ہوگی کیونکہ جب کہ آپ یسوع صاحب کی عزت ثابت کریں گے تو ضرور لوگ آپ کی عزت کریں گے۔میری نظر میں تو سوائے حوالات میں رہنے اور چوتڑوں پر کوڑے کھانے کے انجیل سے اور کچھ ثابت نہیں ہوتا۔اگر اسی کا نام عزت ہے تو بے شک اُس وقت کے مخالف مذہب والیانِ ملک نے مسیح کی بڑی عزت کی۔خیر اوّل اس خط کو جو میری طرف بھیجا ہے، چھپوا دیں اور جلد چھپوا دیں اور ایک کاپی میرے نام بھیج دیں۔پھر آپ دیکھ لیں گے کہ میں کیسی ان اسناد کی وقعت اور یسوع مسیح کی عزت ثابت کرتا ہوں۔اور آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ نور القرآن میں مجھ کو گالیاں دی ہیں۔آپ یاد رکھیں کہ گالیاں دینا اور توہین کرنا اور افتراء کرنا وہ سب اس زمانہ کے پادری صاحبوں کے حصہ میں آ گیا ہے۔کون سی گالی ہے جو آپ