مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 228
اما الجواب۔نادان عیسائیوں کو معلوم نہیں کہ اسلام نے متعہ کو رواج نہیں دیا۔بلکہ جہاں تک ممکن تھا اس کو دنیا میں سے گھٹایا۔اسلام سے پہلے نہ صرف عرب میں بلکہ دنیا کی اکثر قوموں میں متعہ کی رسم تھی یعنی یہ کہ ایک وقت خاص تک نکاح کرنا پھر طلاق دے دینا اور اس رسم کے پھیلانے والے اسباب میں سے ایک یہ بھی سبب تھا کہ جو لوگ لشکروں میں منسلک ہوکر دوسرے ملکوں میں جاتے تھے یا بطریق تجارت ایک مدت تک دوسرے ملک میں رہتے تھے۔ان کو مؤقت نکاح یعنی متعہ کی ضرورت پڑتی تھی اور کبھی یہ بھی باعث ہوتا کہ غیرملک کی عورتیں پہلے سے بتلا دیتی تھیں کہ وہ ساتھ جانے پر راضی نہیں اس لئے اسی نیت سے نکاح ہوتا تھا کہ فلاں تاریخ طلاق دی جائے گی۔پس یہ سچ ہے کہ ایک دفعہ یا دو دفعہ اس قدیم رسم پر بعض مسلمانوں نے بھی عمل کیا۔٭ مگر وحی اور الہام سے نہیں بلکہ جو قوم میں پرانی رسم تھی۔معمولی طور پر اس پر عمل ہوگیا لیکن متعہ میں بجز اس کے اور کوئی بات نہیں کہ وہ ایک تاریخ مقررہ تک نکاح ہوتا ہے اور وحی الٰہی نے آخر اس کو حرام کر دیا۔چنانچہ ہم رسالہ آریہ دھرم میں اس کی تفصیل لکھ چکے ہیں۔مگر تعجب کہ عیسائی لوگ کیوں متعہ کا ذکر کرتے ہیں جو صرف ایک نکاحِ مؤ ّقت ہے۔اپنے یسوع کے چال چلن کو کیوں نہیں دیکھتے۔کہ وہ ایسی جوان عورتوں پر نظر ڈالتا ہے جن پر نظر ڈالنا اس کو درست نہ تھا۔کیا جائز تھا کہ ایک کسبی کے ساتھ وہ ہم نشین ہوتا۔کاش اگر متعہ کا ہی پابند ہوتا تو ان حرکات سے بچ جاتا۔کیا یسوع کی بزرگ دادیوں نانیوں نے متعہ کیا تھا یا صریح صریح زنا کاری تھی۔ہم عیسائی صاحبوں سے پوچھتے ہیں کہ جس مذہب میں نہ متعہ یعنی نکاحِ مؤ ّقت درست ہے اور نہ ازدواج ثانی جائز۔اس مذہب کے لشکری لوگ جو بباعث رعایت حفظ قوت کے راہبانہ زندگی بھی بسر نہیں کرسکتے بلکہ شہوت کی جنبش دینے والی شرابیں پیتے ہیں۔وہ عمدہ سے عمدہ خوراکیں کھاتے ہیں۔تا سپاہیانہ کاموں کے بجا لانے میں چست و چالاک رہیں جیسے گوروں کی پلٹنیں وہ کیونکر بدکاریوں سے اپنے تئیں بچا سکتے ہیں اور ان کی حفظِ ّعفت کے لئے انجیل میں کیا قانون ہے اور اگر کوئی قانون تھا اور انجیل میں ایسے مجردوں کا کچھ علاج لکھا تھا تو پھر کیوں سرکار انگریزی نے ایکٹ چھائونی ہائے نمبر ۱۳، ۱۸۸۹ء جاری کرکے یہ انتظام کیا کہ گورہ سپاہی فاحشہ عورتوں کے ساتھ خراب ہوا کریں یہاں تک کہ سر جارج رائٹ کمانڈر انچیف ٭ یہ عمل سخت اضطرار کے وقت تھا جیسے بھوک سے مرنے والا مُردہ کھا لے۔