مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 226 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 226

چڑھانے کے لئے اس کی طرف دوڑا گیا۔وہ خدا تو کیا بلکہ بقول آپ کے فرد اکمل بھی نہیں۔الغرض کسی کے دل میں یہ خیال گذرنا کہ یہ چیز خوبصورت ہے۔یہ ایک علیحدہ امر ہے جس کو خدا نے آنکھیں دی ہیں جیسے وہ کانٹے اور پھول میں فرق کرسکتا ہے۔ایسا ہی وہ خوبصورت اور بدصورت میں فرق کرسکتا ہے۔آپ کے خدا صاحب کو شاید یہ قوت ممیزہ فطرت سے نہیں ملی ہوگی مگر پیٹ کی شہوت کے لئے تو انجیر کے درخت کی طرف دوڑے یہ بھی نہ سوچا کہ یہ کس کا انجیر ہے۔تعجب کہ ایک شرابی اور کھائو پیو کو شہوت پرست نہ کہا جائے اور وہ پاک ذات جس کی زندگی اور جس کا ہریک فعل خدا کے لئے تھا۔اس کا نام اس زمانہ کے پلید طبع شہوت پرست رکھیں۔عجب تاریکی کا زمانہ ہے۔یہ اسلام کی اعلیٰ تعلیم کا ایک نمونہ ہے کہ ہرگز قصداً کسی عورت کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھو کہ یہ بدنظری کا پیش خیمہ ہے۔اور اگر اتفاقاً کسی خوبصورت عورت پر نظر پڑے اور وہ خوبصورت معلوم ہو تو اپنی عورت سے صحبت کر کے اس خیال کو ٹال دو۔خوب یاد رکھو کہ یہ تعلیم اور یہ حکم حفظِ ماتقدم کے طور پر ہے جو شخص مثلاً ہیضہ کے دنوں میں ہیضہ سے بچنے کے لئے حفظِ ماتقدم کے طور پر کوئی دوا استعمال کرتا ہے تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس کو ہیضہ ہوگیا ہے یا ہیضہ کے آثار اس میں ظاہر ہوگئے ہیں۔بلکہ یہ بات اس کی دانشمندی میں محسوب ہوگی اور سمجھا جائے گا کہ وہ اس بیماری سے طبعاً نفرت رکھتا ہے اور اس سے دُور رہنا چاہتا ہے۔اس بات میں آپ کے ساتھ کوئی بھی اتفاق نہیں کرے گا کہ تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرنا کمال کے برخلاف ہے۔اگر انبیاء علیہم السلام تقویٰ کا نمونہ نہ دکھلاویں تو اور کون دکھلاوے۔جو خدا ترسی میں سب سے بڑھ کر ہوتا ہے وہی سب سے بڑھ کر تقویٰ بھی اختیار کرتا ہے۔وہ بدی سے اپنے تئیں دُور رکھتا ہے وہ ان راہوں کو چھوڑ دیتا ہے۔جس میں بدی کا احتمال ہوتا ہے۔مگر آپ کے یسوع صاحب کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کب تک ان کے حال پر روویں۔کیا یہ مناسب تھا کہ وہ ایک زانیہ عورت کو یہ موقعہ دیتا کہ وہ عین جوانی اور حُسن کی حالت میں ننگے سر اس سے مل کر بیٹھتی اور نہایت ناز اور نخرہ سے اس کے پائوں پر اپنے بال َملتی اور حرام کاری کے عطر سے اس کے سر پر مالش کرتی۔اگر یسوع کا دل بدخیالات سے پاک ہوتا تو وہ ایک کسبی عورت کو نزدیک آنے سے ضرور منع کرتا۔مگر ایسے لوگ جن کو حرام کار عورتوں کے چُھونے سے مزہ آتا ہے۔وہ ایسے نفسانی موقعہ پر کسی ناصح کی نصیحت بھی نہیں سُنا کرتے۔دیکھو یسوع