مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 210
ہوں گی۔اور یہی وہ عقیدہ ہے جو عقل اور انصاف کے موافق ہے۔اور یہ نہایت شرارت اور خباثت اور حرام زدگی ہے کہ قرآن پر یہ طعن وارد کیا جائے کہ وہ صرف جسمانی بہشت کا وعدہ کرتا ہے۔قرآن تو صاف کہتا ہے کہ ہریک جو بہشت میں داخل ہوگا وہ جسمانی روحانی دونوں قسم کی جزا پائے گا۔اور جیسا کہ نعمت جسمانی اس کو ملے گی۔ایسا ہی وہ دیدار الٰہی سے لذت اٹھائے گا۔اور یہی اعلیٰ لذت بہشت میں ہے۔معارف کی لذت بھی ہوگی اور طرح طرح کے انوار کی لذّت بھی ہوگی۔اور عبادت کی لذت بھی ہوگی۔مگر اس کے ساتھ جسم بھی اپنی سعادتِ تامہ کو پہنچے گا۔ہم دعوٰے سے کہتے ہیں کہ جس قدر قرآن نے بہشتیوں کی روحانی جزا کی کیفیت لکھی ہے انجیل میں ہرگز نہیں۔جس شخص کو شک ہو۔ہمارے مقابل پر آئے اور ہم سے سُنے اور انجیل کی تعلیم سناوے۔اگر وہ غالب ہوا اور اس نے ثابت کیا کہ انجیل میں بہشتیوں کی روحانی جزا قرآن سے بڑھ کر لکھی ہے تو ہم حلفاًکہتے ہیں کہ اُسی وقت ہزار روپیہ نقد اس کو دیا جائے گا۔جس جگہ چاہے باضابطہ تحریر دے کر جمع کرا لے۔اے اندھو! قرآن کے مقابل پر انجیل کچھ بھی چیز نہیں۔کیوں تمہاری شامت آئی ہے۔گھروں میں آرام کر کے بیٹھو۔اب تمہاری رُسوائی کا وقت آگیا ہے۔کیا تم میں کسی کو حوصلہ ہے۔کہ آرام سے آدمی بن کر مجھ سے آکر بحث کرلے کہ بہشت کے بارے میں روحانی جزا کا بیان انجیل میں زیادہ ہے یا قرآن میں۔اور اگر انجیل میں زیادہ نکلا تو مجھ سے نقد ہزار روپیہ لے لے۔جہاں چاہے جمع کرا لے۔مجھے امید نہیں کہ کوئی میرے سامنے آوے۔اللہ اللہ! کیسی یہ قوم ظالم اور دغا باز ہے۔جنہوں نے دنیا کی زندگی کے لئے آخرت کو بھلا دیا ہے۔مگر ذرہ موت کا پیالہ پی لیں۔پھر دیکھیں گے کہ کہاں ہے یسوع اور اس کا کفارہ۔ہائے افسوس ان لوگوں نے ایک عاجز انسان اور عاجزہ کے بیٹے کو خدا بنا دیا۔اور خدائے قدوس پر تمام نالایق باتیں روا رکھیں۔دنیا میں ایک ہی آیا۔جو سچی اور کامل توحید کو لایا۔اس سے انہوں نے دشمنی کی۔اور یہ بھی سراسر جھوٹ ہے کہ انجیل میں جسمانی جزا کی طرف کوئی اشارہ نہیں۔دیکھو متی کیسی تفصیل سے یسوع کا قول جسمانی جزا کے بارے میں بیان کرتا ہے اور وہ یہ ہے:۔اور جس نے گھر یا بھائی یا بہن یا باپ یا جورو یا بال بچوں یا زمین کو میرے نام پر چھوڑا سو گنا پاوے گا۔( ۱۹ باب آیت ۲۹) دیکھو یہ کیسا صریح حکم ہے اس میں تو یہ بھی بشارت ہے کہ اگر عیسائی عورت یسوع کے لئے خاوند