مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 169
مکتوب نمبر۵ ڈاکٹر مارٹن کلارک کے نام بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مشفق مہربان پادری صاحب بعد ما وجب۔یہ وقت کیا مبارک ہے کہ میں آپ کی اس مقدس جنگ کیلئے تیار ہو کر جس کا آپ نے اپنے خط میں ذکر فرمایا ہے۔اپنے چند عزیز دوست بطور سفیر منتخب کر کے آپ کی خدمت میں روانہ کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ اس پاک جنگ کیلئے آپ مجھے مقابلہ پر منظور فرماویں گے۔جب آپ کا پہلا خط جو جنڈیالہ کے بعض مسلمانوں کے نام مجھ کو ملا اور میں نے یہ عبارتیں پڑھیں کہ کوئی ہے کہ ہمارا مقابلہ کرے! تو میری روح اسی وقت بول اُٹھی کہ ہاں میں ہوں جس کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ مسلمانوں کو فتح دے گا اور سچائی کو ظاہر کرے گا۔وہ حق جو مجھ کو ملا ہے اور وہ آفتاب جس نے ہم میں طلوع کیا ہے وہ اب پوشیدہ رہنانہیں چاہتا۔میں دیکھتا ہوں کہ اب وہ زور دار شعاعوں کے ساتھ نکلے گا اور دلوں پر اپنا ہاتھ ڈالے گا اور اپنی طرف کھینچ لائے گا۔لیکن اس کے نکلنے کیلئے کوئی تقریب چاہیے تھی سو آپ صاحبوں کا مسلمانوںکو مقابلہ کیلئے بلانا نہایت مبارک اور نیک تقریب ہے۔مجھے امید نہیں کہ آپ اس بات پر ضد کریں کہ ہمیں تو جنڈیالہ کے مسلمانوں سے کام ہے، نہ کسی اَور سے۔آپ جانتے ہیں کہ جنڈیالہ میں کوئی مشہور اور نامی فاضل نہیں اور یہ آپ کی شان سے بعید ہوگا کہ آپ عوام سے اُلجھتے پھریں۔اور اس عاجز کا حال آپ پر مخفی نہیں کہ آپ صاحبوںکے مقابلہ کیلئے دس۱۰ برس کا پیاسا ہے اور کئی ہزار خط اُردو و انگریزی اسی پیاس کے جوش سے آپ جیسے معزز پادری صاحبان کی خدمت میں روانہ کر چکا ہوں اور پھر جب کچھ جواب نہ آیا تو آخر ناامید ہو کر بیٹھ گیا۔چنانچہ بطور نمونہ اُن خطوں میں سے کچھ روانہ بھی کرتا ہوں تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ آپ کی اس توجہ کا اوّل مستحق میں ہی ہوں۔اور سوائے اس کے اگر میں کاذب ہوں تو ہر ایک سزا بھگتنے کیلئے تیار ہوں۔میں پورے دس۱۰ سال سے میدان میں کھڑا ہوں۔جنڈیالہ میں میری دانست میں ایک بھی نہیں جو میدان کا سپاہی تصور کیا جاوے۔اس لئے باَدب مُکلّف ہوں کہ اگر یہ امر مطلوب ہے کہ روز