مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 167

رکھتی ہے۔بلکہ منکر ایسی خبروں کو صرف ایک قصہ سمجھے گا۔اسی وجہ سے یورپ کے فلاسفر مسیح کے معجزات سے جو انجیل میں مندرج ہیں کچھ بھی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے بلکہ اس پر قہقہہ مار کر ہنستے ہیں۔پس جب کہ یہ بات ہے تو یہ نہایت آسان مناظرہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اہل اسلام کا کوئی فرد، اس تعلیم اور علامات کے موافق جو کامل مسلمان ہونے کے لئے قرآن میں موجود ہیں، اپنے نفس کو ثابت کرے اور اگر نہ کر سکے تو دروغ گو ہے نہ مسلمان۔اور ایسا ہی عیسائی صاحبوں میں سے ایک فرد اس تعلیم اور علامات کے موافق جو انجیل شریف میں موجود ہیں اپنے نفس کو ثابت کر کے دکھلائے اور اگر وہ ثابت نہ کر سکے تو دروغ گو ہے نہ عیسائی۔جس حالت میں دونوں فریق کا یہ دعویٰ ہے کہ جس نور کو ان کے انبیاء لائے تھے وہ نور فقط لازمی نہ تھا بلکہ متعدی تھا تو پھر جس مذہب میں یہ نور متعدی ثابت ہوگا اسی کی نسبت عقل تجویز کرے گی کہ یہی مذہب زندہ اور سچا ہے۔کیونکہ اگر ہم ایک مذہب کے ذریعہ سے وہ زندگی اور پاک نور معہ اس کی تمام علامتوں کے حاصل نہیں کر سکتے جو اس کی نسبت بیان کیا جاتا ہے تو ایسا مذہب بجز لاف و گزاف کے زیادہ نہیں۔اگر ہم فرض کر لیں کہ کوئی نبی پاک تھا مگر ہم میں سے کسی کو بھی پاک نہیں کر سکتا، اور صاحب خوارق تھا مگر کسی کو صاحب خوارق نہیں بنا سکتا، اور الہام یافتہ تھا مگر ہم میں سے کسی کو ملہم نہیں بنا سکتا تو ایسے نبی سے ہمیں کیا فائدہ؟ مگر الحمدللہ والمنتہ کہ ہمارا سیّد و رسول خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں تھا۔اس نے ایک جہان کو وہ نور حسب مراتب استعداد بخشا کہ جو اس کو ملا تھا اور اپنے نورانی نشانوں سے وہ شناخت کیا گیا۔وہ ہمیشہ کے لئے نور تھا جو بھیجا گیا اور اس سے پہلے کوئی ہمیشہ کے لئے نور نہیں آیا۔اگر وہ نہ آتا اور نہ اس نے بتلایا ہوتا تو حضرت مسیح کے نبی ہونے پر ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں تھی کیونکہ اس کا مذہب مر گیا اور اس کا نور بے نشان ہو گیا اور کوئی وارث نہ رہا جو اس کو کچھ نور دیا گیا ہو۔اب دنیا میں زندہ مذہب صرف اسلام ہے اور اس عاجز نے ذاتی تجارب سے دیکھ لیا اور پرکھ لیا کہ دونوں قسم کے نور اسلام اور قرآن میں اب بھی ایسے ہی تازہ بتازہ موجود ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت موجود تھے اور ہم ان کے دکھلانے کے لئے ذمہ دار ہیں۔اگر کسی کو مقابلہ کی طاقت ہے تو ہم سے خط و کتابت کرے۔والسلام علی من اتبع الہدی۔بالآخر یہ بھی واضح رہے کہ اس عاجز کے مقابلہ پر جو صاحب کھڑے ہوں وہ کوئی بزرگ نامی