مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 147

نے جو برخلاف حقیقت ہیں، بڑی گھبراہٹ میں انہیں ڈال دیا ہے یہاں تک کہ بعضوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ مسیح یا عیسیٰ نام (کا) خارج میں کوئی شخص کبھی پیدا نہیں ہوا بلکہ اس سے آفتاب مراد ہے اور بارہ حواریوں سے بارہ برج مراد ہیں۔اور پھر اس مذہب عیسائی کی حقیقت زیادہ تر اس بات سے کھلتی ہے کہ جن نشانیوں کو حضرت مسیح ایمان داروں کے لئے قرار دے گئے تھے اُن میں سے ایک بھی ان لوگوں میں نہیں پائی جاتی۔حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ اگر تم میری پیروی کرو گے تو ہر ایک طرح کی برکت اور قبولیت میں میرا ہی روپ بن جاؤ گے اور معجزات اور قبولیت کے نشان تم کو دیئے جائیں گے اور تمہارے مومن ہونے کی یہی علامت ہوگی کہ تم طرح طرح کے نشان دکھلا سکو گے اور جو چاہو گے تمہارے لئے وہی ہوگا اور کوئی بات تمہارے لئے ناممکن نہیں ہوگی۔لیکن عیسائیوں کے ہاتھ میں ان برکتوں میں سے کچھ بھی نہیں۔وہ اس خدا سے ناآشنا محض ہیں جو اپنے مخصوص بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور انہیں آمنے سامنے شفقت اور رحمت کا جواب دیتا ہے اور عجیب عجیب کام ان کے لئے کر دکھاتا ہے لیکن سچے مسلمان جو اُن راستبازوں کے قائم مقام اور وارث ہیں جو ان سے پہلے گذر چکے ہیں وہ اُس خدا کو پہچانتے اور اس کی رحمت کے نشانوں کو دیکھتے ہیں اور اپنے مخالفوں کے سامنے آفتاب کی طرح جو ظلمت کے مقابل ہو مابہ الامتیاز رکھتے ہیں۔ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ اس دعویٰ کو بلا دلیل نہیں سمجھناچاہئے۔سچے اور جھوٹے مذہب میں ایک آسمان پر فرق ہے اور ایک زمین پر۔زمین کے فرق سے مراد وہ فرق ہے جو انسان کی عقل اور انسان کا کانشنس اور قانونِ قدرت اس عالَم کا اس کی تشریح کرتا ہے۔سو عیسائی مذہب اور اسلام کو جب اس محک کی رو سے جانچا جائے تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ اسلام وہ فطرتی مذہب ہے جس کے اصولوں میں کوئی تصنع اور تکلّف نہیں اور جس کے احکام کوئی مستحدث اور بناوٹی امر نہیں اور کوئی ایسی بات نہیں جو زبردستی منوانی پڑے اور جیسا کہ خدا ئے تعالیٰ نے جا بجا آپ فرمایا ہے۔قرآن شریف صحیفۂ فطرت کے تمام علوم اور اس کی صداقتوں کو یاد دلاتا ہے اور اس کے اسرارِ غامضہ کو کھولتا ہے اور کوئی نئے امور برخلاف اس کے پیش نہیں کرتا بلکہ درحقیقت اُسی کے معارف دقیقہ ظاہر کرتا ہے۔برخلاف اس کے عیسائیوں کی تعلیم جس کا انجیل پر حوالہ دیا جاتا ہے ایک نیا خدا پیش کر رہی ہے جس کی خود کشی پر دنیا کے گناہ اور عذاب سے نجات موقوف اور اس کے دُکھ اُٹھانے پر خلقت کا آرام موقوف اور اس کے بے عزت اور ذلیل