مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 117

کر رہا ہے اور اپنی ذاتی خوبیاں اور اپنے حقائق اور معارف اور اپنے فوق العادت خواص اس قدر دکھلا رہا ہے جس کے مقابلہ و معارضہ سے تم عاجز رہ گئے ہو۔اور تم پر اور تمہاری قوم پر ایک خارقِ عادت اثر ڈال رہا ہے٭ اور دلوں پر وارد ہو کر عجیب در عجیب تبدیلیاں دکھلا رہا ہے۔مدت ہائے دراز کے مردے اس سے زندہ ہوتے چلے جاتے ہیں اور مادر زاد اندھے جو بے شمار پشتوں سے اندھے ہی چلے آتے تھے، آنکھیں کھول رہے ہیں اور کفر اور الحاد کی طرح طرح کی بیماریاں اس سے اچھی ہوتی چلی جاتی ہیں اور تعصب کے سخت جذامی اس سے صاف ہوتے جاتے ہیں۔اس سے نور ملتا ہے اور ظلمت دُور ہوتی ہے اور وصل الٰہی میسر آتا ہے اور اس کی علامات پیدا ہوتی ہیں۔سو ٭ یہ تمام خارقِ عادت خاصیتیں قرآن شریف کی، جن کی رو سے وہ معجزہ کہلاتا ہے ان مفصلہ ذیل سورتوں میں بہ تفصیل ذیل کہتے ہیں۔سورۃ البقرۃ، سورۃ اٰل عمران، سورۃ النساء، سورۃ المائدۃ، سورۃ الانعام، سورۃ الاعراف، سورۃ الانفال، سورۃ التوبۃ، سورۃ یونس، سورۃ ھود، سورۃ الرعد، سورۃ ابراہیم، سورۃ الحجر، سورۃ الواقعۃ، سورۃ النمل، سورۃ الحج، سورۃ البیّنۃ، سورۃ المجادلۃ چنانچہ بطور نمونہ چند آیات یہ ہیں فرماتا ہے عزّو جلّ۔یھدی بہ اللّٰہ من اتّبع رضوانہ سبل السلام ویخرجھم من الظلمت الی النور۔شفائٌ لما فی الصدور۔انزل من السماء ماء فاحیابہ الارض بعد موتہا۔انزل من السماء مائً فسالت اودیۃ بقدرھا۔انزل من السماء مائً فتصبح الارض مُخْضَرَّۃً۔تقشعرمنہ جلود الذین یخشون ربھم ثم تلین جلودھم وقلوبھم الٰی ذکر اللّٰہ الابذکر اللّٰہ تطمئن القلوب۔اولئک کتب فی قلوبھم الایمان وایَّدَھُمْ بروح منہ۔قل نزلہ روح القدس من ربک بِالْحَقِّ لیثبت الذین اٰمنوا وھدًی وبشری للمسلمین۔انا نحن نزلنا الذِّکْرَ وَانالہٗ لحفظون۔فیھا کتب قیّمۃ۔قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القران لایاتون بمثلہ ولوکان بعضھم لبعضٍ ظھیرًاo یعنی قرآن کے ذریعہ سے سلامتی کی راہوں کی ہدایت ملتی ہے اور لوگ ظلمت سے نور کی طرف نکالے جاتے ہیں۔وہ ہر ایک اندرونی بیماری کو اچھا کرتاہے۔خدا نے ایک ایسا پانی اُتارا ہے جس سے مردہ زمین زندہ ہو رہی ہے۔ایسا پانی اُتارا جس سے ہر ایک وادی بقدر اپنی وسعت کے بہہ نکلا ہے۔ایسا پانی اُتارا جس سے گلی سڑی ہوئی زمین سرسبز ہوگئی۔اس سے خدا خوف بندوں کی جلدیں کانپتی ہیں۔پھر ان کی جلدیں اور ان کے دل ذکر الٰہی کیلئے نرم ہو جاتے ہیں۔یاد رکھو کہ قرآن سے دل اطمینان پکڑتے ہیں۔جو لوگ قرآن کے تابع ہو جائیں اُن کے دلوں میں ایمان لکھا جاتا ہے اور روح القدس انہیں ملتا ہے۔روح القدس نے ہی قرآن کو اُتارا تا قرآن ایمانداروں کے دلوں کو مضبوط کرے اور مسلمین کیلئے ہدایت اور بشارت کا نشان ہو۔ہم نے ہی قرآن کو اُتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں، یعنی کیا صورت کے لحاظ سے اور کیا خاصیت کے لحاظ سے ہمیشہ قرآن اپنی حالت اصلی پر رہے گا اور الٰہی حفاظت کا اس پر سایہ ہوگا۔پھر فرمایا کہ قرآن میں تمام معارف و حقائق و صداقتیں ہیں جو حقّانی کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔اور اس کی مثل بنانے پر کوئی انسان و ّجن قادر نہیں اگرچہ اس کام کیلئے باہم ممدومعاون ہو جائیں۔