مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 107
آپ پر واضح ہو کہ یہ عاجز مسیح کی زندگی کے نمونہ پر چلتا ہے۔کسی باغ میں کوئی امیرانہ کوٹھی نہیں رکھتا اور اس عاجز کا گھر اس قسم کی عیش و نشاط کا گھر نہیں ہو سکتا جس کی طرف دنیا پرستوں کی طبیعتیں راغب اور مائل ہیں۔ہاں اپنی حیثیت اور طاقت کے موافق مہمانوں کیلئے خالصًا لِلّٰہ مکانات بنا رکھے ہیں اور جہاں تک بس چل سکتا ہے۔ان کی خدمت کے لئے آمادہ وحاضر ہوں۔سو اگر آپ ایسے مکانات میں گزارہ کرنا چاہیں تو بہتر ہے کہ اوّل آ کر اُن کو دیکھ لیں۔لیکن اگر آپ تنعّم پسند لوگوں کی طرح مجھ سے یہ درخواست کریں کہ میرے لئے ایک ایسا شیش محل چاہئے جو ہر ایک طرح کی فرش فروش سے آراستہ ہو۔جا بجا تصویریں لگی ہوئی اور مکان سجا ہوا اور بوتلوں میں مست اور متوالا کرنے والی چیز بھری ہوئی رکھی ہوںاور اِردگرد مکان کے ایک خوشنما باغ اور چاروں طرف اس کے نہریں جاری ہوں اور دس بیس خدمت گذار غلاموں کی طرح حاضر ہوں تو ایسا مکان پیش کرنے سے مجبور و معذور ہوں بلکہ ایک سادہ مکان جو ان تکلّفات سے خالی لیکن معمولی طور پر گزارہ کرنے کا مکان ہو، موجود اور حاضر ہے اور مکرر کہتا ہوں کہ آپ کو پُرتکلف مکانات اور دوسرے لوازم سے گریز کرنا چاہئے تا آپ میں مسیح کی زندگی کی علامات ظاہر ہو جائیں۔اور میں ہرگز خیال نہیں کرتا کہ یہ مکان آپ کو کچھ تکلیف دِہ ہوگا۔بلکہ مجھے کامل تسلی ہے کہ ایک شکرگزار آدمی ایسے مکان میں رہ کر کوئی کلمہ شکوہ شکایت کا منہ پر نہیں لائے گا۔کیونکہ مکان وسیع موجود ہے اور گذارہ کرنے کے لئے سب کچھ مل سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اگر آپ بعدملاحظہ مکان چند معمولی اور جائز باتوں میں جو ہماری طاقت میں ہوں فرمائش کریں تو وہ بھی بفضلہ تعالیٰ میسر آ سکتی ہیں مگر بہرحال پہلے آپ کا تشریف لانا ازبس ضروری ہے۔پھر آپ دوسری شرط میں یہ لکھتے ہیں کہ الہام اور معجزہ کا ثبوت ایسا چاہئے، جیسے کتاب اقلیدس میں ثبوت درج ہیں، جس سے ہمارے دل قائل ہو جائیں۔اس میں اوّل اس عاجز کی اس بات کو یاد رکھیں کہ ہم لوگ معجزہ کا لفظ صرف اُسی محل میں بولا کرتے ہیں جب کوئی خارقِ عادت کسی نبی یا رسول کی طرف منسوب ہو لیکن یہ عاجز ۱؎ نہ نبی ہے اور نہ رسول ہے، صرف اپنے نبی معصوم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ادنیٰ خادم اور پیرو ہے اور اسی رسول مقبول کی برکت و متابعت سے ۱؎ یہ آپ کی سچائی کی دلیل ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ نے آپ پر اس روز نبوت کو نہیں کھولا آپ نے بھی دعویٰ نہ کیا۔(ایڈیٹر)