مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 95
مکتوب نمبر ۲۳ جناب مینیجر صاحب گروکل گوجرانوالہ تسلیم آپ کا دوسرا خط حضرت کی خدمت میں پہنچا جس میں آپ نے ظاہر کیا ہے کہ آپ نصف گھنٹہ سے زیادہ وقت نہیں دے سکتے اور کہ ایک عالم کے واسطے بہ سبب اس کے علم کے اتنا وقت کافی ہے۔بجواب گزارش ہے کہ حضرت فرماتے ہیں: کہ اہم مذہبی امور پر گفتگو کرنے کے واسطے اتنا تھوڑا وقت کسی صورت میں کافی نہیں ہو سکتا۔اس واسطے ہم ایسی مجلس میں شریک نہیں ہو سکتے۔اگر آپ کم از کم تین گھنٹہ وقت ہمارے مضمون کے واسطے رکھتے تو ممکن تھا کہ ہم خود جاتے یا اپنا کوئی فاضل دوست اپنا مضمون دے کر بھیج دیتے۔ہم کسی طرح سمجھ ہی نہیں سکتے کہ ایسے مضامین عالیہ میں صرف آدھ گھنٹے کی تقریر کافی ہے۔ہم رسوم کے پابند نہیں بلکہ ہم پابند احقاقِ حق ہیں۔باقی آپ کا یہ فرمانا کہ بڑے عالم کے واسطے نصف گھنٹہ ہی کافی ہے۔مجھے تعجب ہے کہ یہ بات آپ کیونکر درست قرار دیتے ہیں جب کہ آپ کے وید مقدس لکھنے والوں نے اپنی باتوں کو ختم نہ کیا جب تک کہ وہ ایک گدھے کے بوجھ کے برابر ہوگئے تو پھر آپ ہم سے یہ امید کیونکر رکھتے ہیں۔ایک نکتۂ معرفت کاقبل از تکمیل گلا گھوٹنادرحقیقت سچائی کا خون کرنا ہے جس کو کوئی راستباز پسند نہ کرے گا۔اگر علم و فضل کا معیار حد درجہ کے اختصار اور تھوڑے وقت میں ہوتا، تو چاہئے کہ وید صرف چند سطروں میں ختم ہو جاتا۔مجھے افسوس ہے کہ اس تھوڑے وقت نے مجھے اس اشتراک سے محروم رکھا۔کیا خدا تعالیٰ کی ذات صفات کی نسبت کچھ بیان کرنا اور پھر روح اور مادہ میں جو کچھ فلاسفی مخفی ہے اس کو کھولنا آدھ گھنٹہ کا کام ہے؟ ہرگز نہیں۔بلکہ یہ لفظ ہی سوئِ ادب میں داخل ہے۔جن لوگوں کو محض شراکت کا فخر حاصل کرنا مقصود ہے وہ جو چاہیں کریں مگر ایک محقق ناتمام تقریر پر خوش نہیں ہو سکتا۔سچائی کو ناتمام چھوڑنا ایسا ہے جیسا کہ بچہ اپنے پورے دنوں سے پہلے پیٹ سے ساقط ہو جائے۔آئندہ آپ کا اختیار ہے۔خادم مسیح موعود ؑ ۱۷؍ فروری ۱۹۰۷ء محمد صادق عفی اللہ عنہ