مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 82 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 82

82 (۲۰ کروڑ ) سال تک پانی بڑے دباؤ کے ساتھ اس جگہ بہتا رہا اور اس نے پہاڑوں کو کاٹ کر یہ غاریں بنائی ہیں۔پانی کو جدھر راستہ ملتا گیا وہ جگہ بناتا گیا اور اس طرح یہ غاریں بھول بھلیوں کی شکل اختیار کرتی گئیں۔ایک زمانہ میں یہ علاقہ سمندر میں ڈوبا ہوا تھا اور شدید بارشوں اور طوفانوں کی زد میں تھا۔چنانچہ پانی اپنی جولانیوں میں پہاڑوں اور زمین کے نیچے رستے بنا تا رہا۔اور جب وہ پیچھے ہٹا تو اپنا ایک حصہ اور نمکیات پیچھے چھوڑ گیا۔دنیا کی اکثر غاریں اسی لئے سمندروں کے ارد گرد پائی جاتی ہیں جیسے بحیرہ مردار کے کنارے وادی قمران میں۔دریائے نیل کے کنارے ناگ حمادی میں اور بحیرہ روم (Mediterranean) کے اردگرد، روم، نیپلز ، سائرین اسکندریہ اور مالٹا وغیرہ میں۔ہوسکتا ہے کہ کچھ غار میں انسانوں نے بھی اپنے استعمال کے لئے ٹھیک ٹھاک کی ہوں یا بنائی ہوں۔پرانے زمانہ میں کئی لوگ انہیں چھپنے وغیرہ کے لئے استعمال کرتے تھے جیسے ڈاکو، چور اور غلام۔نیز وہ لوگ اپنے مردوں کو غاروں کی دیواروں میں دفن کیا کرتے تھے۔ابتدائی موحد عیسائی بھی جب ظلم حد سے بڑھ جاتا تو کچھ عرصہ غاروں کو چھپنے کے لئے استعمال کرتے تھے جن کا ذکر سورۃ کہف میں آیا ہے۔ایک دفعہ خاکسار کو روم کی غاریں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔بغیر گائیڈ کی مدد کے اندر جا کر بھول بھلیوں میں رستہ تلاش کر کے باہر نکل آنا آج کے زمانہ میں بھی سخت مشکل ہے۔Jenolan کی غاریں جن کے بارہ میں یہ خبر ہے وہاں بھی ایک بار لندن کے رشید احمد چوہدری صاحب کے ہمراہ جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ہم وہاں پہنچے ضرور تھے لیکن غار کے منہ پر ہی بیٹھے رہے۔ہم خود تو اندر غار میں نہیں گئے لیکن دوسرے ساتھی گئے تھے بس ان سے ہی سارا حال احوال پوچھ لیا تھا۔(الفضل انٹر نیشنل 6۔2۔98)