مکتوب آسٹریلیا — Page 66
66 (Premature) حالت ہی میں حملہ کر بیٹھتا ہے جس کے نتیجہ میں پودے سے مارکھا جاتا ہے اور مٹ جاتا ہے۔ملبورن کے ایک فورم 2003 Fresh Science میں ڈاکٹر Mathesius نے بتایا کہ انہوں نے یہ تجربہ الفلفا (Alfalfa) قسم کے پودے پر کئے ہیں۔انہوں نے مصنوعی طور پر وہ کیمیکل بنائے جن کے ذریعہ دوست اور دشمن بکٹیر یا سگنل دیتے ہیں۔یہ پودے ۲۵۰۰ اقسام کے پروٹین بناتے ہیں جن میں سے ۱۵۰ پر ان سگنلز کا اثر پایا جا تا ہے جن میں سے اکثر کا تعلق پودہ کے دفاعی نظام سے تھا۔وہ کہتے ہیں ہمیں ہرگز یہ توقع نہ تھی کہ یہ پودے ایسی ذہانت اور سمجھ بوجھ کے ساتھ دشمن کے خلاف اپنا دفاع کرتے ہوں گے۔اب تک کسی کو یقینی طور پر یہ پتہ نہ تھا کہ پودوں کا جاسوی نظام اتنا شاندار ہوگا کہ وہ دشمن کے منصوبہ کا چوری چھپے پتہ لگا لیتے ہیں اور وسیع پیمانہ پر فوری طور پر جوابی کاروائی کرتے ہیں۔اس تحقیق کے نتیجہ میں پودوں کو بکٹیریا کے حملوں سے بچانے کے لئے نئے طریق وضع کئے جاسکیں گے اور ایسے کیمیکلز بنائے جاسکیں گے جن کو سپرے کر کے بکٹیریا کو دھوکہ دے کر حملوں سے باز رکھا جائے۔یا پھر ایسے پودے بنائے جاسکیں گے جو خود اپنے اندر ہی ایسے کیمیکلز کے سگنل چھوڑ سکیں۔ڈاکٹر صاحب موصوف کہتے ہیں کہ جب آپ کسی پودہ کو دیکھتے ہیں تو بظاہر نظر آتا ہے کہ وہ کچھ کام وام نہیں کرتا۔لیکن اگر بغور زمین کے اندر پوشیدہ جڑوں کو دیکھیں تو تب پتہ لگتا ہے کہ کتنا پیچیدہ نظام ہے جو پیچھے کام کر رہا ہے۔لگتا ہے کہ پودے اندھے نہیں ہیں بلکہ دیکھتے اور سنتے ، اور بولتے ہیں۔(ماخوذ از سڈنی مارننگ ہیرلڈ ۲۱ اگست ۲۰۰۳ء) سبحان اللہ ! کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا۔اللہ تعالیٰ نے پودہ کی جڑ ، تنا، شاخوں اور پتوں وغیرہ میں کیسا شاندار نظام جاری فرما دیا ہے جس کے بغیر کوئی چھوٹے سے چھوٹا بوٹا بھی نہ اگ سکتا ہے نہ پھل پھول سکتا ہے تبھی تو کھیتوں کے مالک نے فرمایا أَفَرَءَ يْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ وَ انْتُمْ تَزْرَعُوْنَة أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُوْنَ ( الواقع ۶۴ - ۶۵ ) بھلا بتاؤ تو سہی کہ جو کچھ تم کاشت کرتے ہو کیا تم ہی ہو جو اسے اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں۔کیوں نہیں اے ہمارے پیارے خالق و مالک! ہمیں تسلیم ہے کہ آپ ہی اگانے والے