مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 379 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 379

379 نہیں ہوتے ان کے مذہبی کیلنڈر میں توجہ ایسٹر پر تھی۔یہ امر تصدیق شدہ ہے کہ سب سے پہلی بار ۳۳۶ ء میں روم سے کرسمس کا آغاز ہوا۔زیادہ امکان یہی ہے کہ کرسمس کے لئے ۵۲ / دسمبر کی تاریخ اس لئے مقرر کی گئی تھی کہ اس روز روی موسم سرما کے زوال کی خوشی کا تہوار منایا کرتے تھے اور کرسمس کو اس پر منطبق کی گیا تھا۔یر جیسا کہ Chadwick نے لکھا ہے رومن یہ تہوار شراب کی مدہوشی اور خوشی کی سرمستی (Drunkenness and Riot) کی کیفیت میں منایا کرتے تھے۔چرچ اگر چہ کہتا رہا کہ کرسمس کو با مقصد تہوار کے طور پر منانا چاہئے۔لیکن جس طرح آج کے عیسائی اس طرح کی اپیلوں کو نظر انداز کر کے پینے پلانے اور کھانے پینے میں حد اعتدال سے گزر جاتے ہیں ایسا ہی حال ان پہلے عیسائیوں کا تھا۔انہوں نے بھی اسی طریق کی پیروی کی جس پر ان کے غیر عیسائی رومی ہمسائے چلتے تھے۔سڈنی مارننگ ہیرلڈ ۲۴ دسمبر ۲۰۰۳ء) یہاں ضمنا یہ ذکر مناسب ہوگا کہ ہیروڈ (Herod) فلسطین کا رومی بادشاہ تھا جس کا زمانہ ۷۳ تام قبل مسیح بیان کیا جاتا ہے۔اس لحاظ سے حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش چارتا چھ سال قبل مسیح یاور کی جاتی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے تفسیر کبیر جلد پنجم میں قرآن کریم، انجیل اور عیسائی محققین کے حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش جولائی یا اگست میں یعنی موسم گرما میں ہوئی تھی جب کھجوریں پکتی ہیں۔گڈریے اپنے ریوڑ کو کھلی جگہ رات کو رکھتے ہیں اور چشموں کا پانی بچہ کو نہلانے کے لئے موزوں ہوتا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: بائبل کی روایت سے پتہ لگتا ہے کہ بچہ بیت اللحم میں پیدا ہوا اور بیت اللحم ایک پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے جو سمندر سے ۲۳۵۰ فٹ اونچی ہے۔اس کے اردگر دسبز وادیاں ہیں جو سارے یہودا سے زیادہ سرسبز ہیں۔اس پہاڑی کے اندر دوتین چشمے ہیں جن کو چشمہ سلیمان کہتے ہیں اور یہیں سے شہر میں پانی لایا جاتا ہے۔گویا شہر میں پانی نہیں بلکہ تالاب سلیمان سے نالیوں کے