مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 346 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 346

346 Knowledge and Truth میں صفحہ ۶۰۶ تا ۶۰۹ میں دجال کے گدھے کی جو مختلف نشانیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمائی تھیں اور احادیث کی مختلف کتب میں مذکور ہیں ان کو مع حوالہ جات جمع فرما دیا ہے جن سے اس گدھے کی ایک دلچسپ تصویر ابھر کر سامنے آجاتی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال کے اس انوکھے گدھے کی علامتیں بیان فرمائی ہوں گی تو وہ باتیں اس زمانہ کے لوگوں کو بہت عجیب لگی ہوں گی کیونکہ باوجودا سے بار بار گدھا کہہ کر پکارنے کے عام گدھے کی کوئی بات بھی اس میں نہیں پائی جاتی۔لیکن آج کل کے زمانہ کی سواریوں مثلا ریل، ہوائی جہاز ، کار، بس، بحری جہاز وغیرہ پر وہ سب باتیں ہو بہو پوری اترتی ہیں۔ان سبھی سواریوں میں ایک بات مشترک ہے کہ وہ سبھی آگ کی طاقت سے کام کرتی ہیں۔حضور رحمہ اللہ نے اس علامتی گدھے کی جو نشانیاں مختلف کتابوں سے اپنی کتاب میں نقل کی ہیں ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے: ا۔دجال خود بھی اپنے گدھے کی طرح ایک دیو ہیکل وجود ہوگا۔اس کا قد اتنا لمبا ہو گا کہ اس کا سر بادلوں میں چھپ جائے گا اور اتنا طاقتور ہوگا کہ اکیلے ساری دنیا کو فتح کرلے گا۔۲۔دجال کی دائیں آنکھ اندھی ہوگی (كَنْزُ الْعُمَّال) (صحیح مسلم)۔اس گدھے پر صرف دجال ہی سواری نہیں کرے گا بلکہ بطور پبلک ٹرانسپورٹ کام کرے گا۔اس کی ایک سائیڈ میں کھلی جگہ رکھی جائے جہاں سے سواریاں اس کے پیٹ کے اندر داخل ہوں گی (بحار الانوار) ۴۔گدھے کے پیٹ کے اندر خوب روشنیاں ہوں گی اور ان پر بیٹھنے کے لئے آرام دہ سیٹیں ہوں گی (بِحَارُ الْأَنْوَار)۔یہ گدھا غیر معمولی تیز رفتار سے چلے گا اور ایسے لمبے فاصلے جو عام حیوانی سواریاں مہینوں میں طے کرتی ہیں وہ دنوں بلکہ گھنٹوں میں طے کر لے گا۔(نُزْهَتُ الْمَجَالِس) ۶۔سفر کے دوران اس گدھے کے لئے با قاعدہ سٹاپ مقرر ہوں گے۔اور ہر سٹاپ سے دوبارہ روانگی کے وقت سواریوں کو بلایا جائے گا کہ وہ اپنی سیٹوں پر بیٹھیں۔یوں یہ گدھا عام لوگوں