مکتوب آسٹریلیا — Page 317
317 از بینتیں پہنچائیں۔بہت سے سکالرز کا میلان طبع اس طرف ہے کہ ان نظموں کا لکھنے ولا خود نیکی کا استاد ہے۔بلکہ وہ تو یہ خیال کرتے ہیں کہ ساری ہی نظموں کا مصنف وہ خود ہی ہے۔اگر چہ ایسا دعویٰ ناممکن تو نہیں ہے لیکن ہم کسی نتیجہ پر فی الحال نہیں پہنچ سکتے اور نہ ہی ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ کسی خاص نظم کے لکھے جانے کا وقت متعین کر سکیں۔نیک استاد اپنی ایک نظم میں اپنے آپ کو بن باپ اور عاجز بیان کرتے ہیں جس کو اس کی ماں نے بھی علیحدہ چھوڑ کر خدا کے سپرد کر دیا۔چنانچہ وہ اپنی نظم نمبر ۴۱ ( سابقہ نمبر ۹) اور نظم نمبر ۸۱ ( سابقہ نمبر ۴۱ ) میں خدا کے حضور عرض کرتے ہیں: (7) "I thank Thee(corrected: Blessed art Thou) O Lord, for Thou hast not abandoned the fatherless or despised the poor۔" (p268)۔۔۔۔"Until lam old Thou wilt care for me: for my father Knew me not and my mother abandoned me to Thee, for Thou art the father to all the sons of Thy truth, and as a woman tenderly loves her babe, so dost Thou rejoice in them, and as foster father bearing a child in his lap, So carest Thou for all they creatures۔"(Page:284) یعنی ” اے خدا تیرا شکر ہے ( سبحان اللہ ) کہ تو نے ایک بن باپ شخص کو نہ تو چھوڑا اور نہ اس عاجز کو ذلیل ہونے دیا۔۔۔تو ہی میرے بڑھاپے تک میری حفاظت فرمائے گا کیونکہ میرا باپ مجھے جانتا نہ تھا اور میری ماں نے مجھے تیرے سپر د کر دیا تھا۔پس تو ہی ہے جو ایسوں کے لئے بمنزلہ باپ ہوتا ہے جو تیری سچائی کے فرزند ہوتے ہیں اور تو ان پر اسی طرح راضی ہوتا ہے جس طرح ایک عورت اپنے بچہ سے پر شفقت محبت کرتی ہے اور جس طرح ایک پالنے پوسنے والا باپ ایک بچہ کی اپنی گود میں اٹھاتا ہے تو بھی اپنی مخلوق کی ایسی ہی نگہداشت کرتا ہے۔“