مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 173 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 173

173 کے بچے کو جنم دے رہی ہے گویا وہ بچہ کی ماں بھی ہے اور بہن بھی۔تیسری اپنی ہمشیرہ کے بچے کی والدہ بن گئی ہے۔چوتھی ایک وفات شدہ جوڑے کے بچے کی ماں ہے۔اور پانچویں ایک لاتعلق جوڑے کی اولا دکو اجرت پر اپنے پیٹ میں پال رہی ہے یا ایسے بچہ کو جس کے حیاتیاتی والدین Biological) (Parents نے بھی ایک دوسرے کو دیکھا بھی نہ ہو۔وعلی ہذا القیاس۔اس غیر ذمہ دارانہ طرز عمل سے رشتوں کے تقدس اور حسب نسب کو پامال کرنے کے امکان پیدا ہور ہے ہیں۔اس سلسلہ میں ایک فوری مسئلہ یہ سامنے آیا ہے کہ اس وقت صرف برطانیہ میں ساٹھ ہزار جنین (Embryos) لیبارٹریوں میں نائٹروجن میں منجمد پڑے ہیں۔جن میں سے نو ہزار ایسے ہیں جن کو وجود میں آئے ہوئے اب پانچ سال پورے ہورہے ہیں جبکہ برطانوی قانون کے مطابق جنین پانچ سال سے زیادہ عرصہ تک منجمد نہیں رکھے جا سکتے۔یہ ایسے جنین ہیں جن کا کوئی وارث نہیں۔بعض غیر شادی شدہ عورتیں یا لا اولا د جوڑے ان کو حاصل کر کے متبنیٰ (Adopt) بنانا چاہتے ہیں۔لیکن جن کے وہ ہیں ان کی اجازت کے بغیر ایسا نہیں ہوسکتا۔تو اب سوال یہ ہے کہ ان جنینیوں کا کیا کیا جائے۔کیا ان کو جلا کر راکھ کر دیا جائے اور کیا ایسا کرنا انسانی جانوں کے مارنے یا حمل ضائع کرنے (Abortion) کے مترادف ہے یا نہیں۔یوں بھی ہر دفعہ جب بغرض علاج ٹیوب میں جنین تیار کئے جاتے ہیں تو وہ ضرورت سے زائد ہوتے ہیں ان میں سے صرف تین جنین پیوند کے لئے منتخب کئے جاتے ہیں۔جو باقی بچتے ہیں اور استعمال نہیں ہو سکتے کیا ان کو ضائع کر دینا مذہبی واخلاقی قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے کئی سوچنے والوں کو پریشان کر رکھا ہے اور ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کر پائے۔(الفضل انٹر نیشنل 27۔9۔96)