مکتوب آسٹریلیا — Page 121
121 موجب بنائے گئے ہیں۔انسان حیوان آکسیجن کھا کر کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتے ہیں جو نباتات کی غذا ہے جب کہ وہ آکسیجن پیدا کرتے ہیں جو انسان اور حیوان کی غذا ہے۔جب فضا میں کار بن ڈائی آکسائیڈ زیادہ ہوگی تو پودے اپنی کاربن کی ضرورت آسانی سے بافراغت حاصل کر کے خوب موٹے تازے ہو جائیں گے۔اس طرح جوں جوں انسان اور مشینیں زیادہ بڑھیں گی تو ان کی خوراک کے لئے اسی قدر فصلیں زیادہ مقدار میں غذا مہیا کرنے لگیں گی۔گرمی کے بڑھنے سے بارشیں بڑھیں گی اور بند (Dams) اور نہروں کے ذریعہ زیادہ علاقہ سیراب ہونے لگے گا وغیرہ وغیرہ الغرض وہ خدا جس نے پیدا کیا ہے آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ خوراک مہیا کرنے کا سامان بھی بڑھاتا چلا جائے گا جیسا کہ ماضی میں اب تک ہوتا آیا ہے۔فالحمد للہ علی ذالک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَجَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَرَكَ فِيْهَا وَقَدْ رَفِيْهَا أَقْوَاتَهَا فِي ط أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِلسَّائِلِينَ ( حم السجدہ : 11) ” اور اس نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ بنائے ہیں اور اس میں بڑی برکت رکھی ہے اور اس میں رہنے والوں کے کھانے پینے کے لئے ہر چیز کو اندازہ کے مطابق بنادیا ہے یہ سب کچھ چار دور میں کیا ہے۔یہ بات - پوچھنے والوں کے لئے برابر ہے۔“ اس کی تشریح میں حضرت مصلح موعود تفسیر صغیر میں فرماتے ہیں: اس آیت سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ ایک زمانہ میں زمین کو پوری غذا پیدا کرنے کے قابل نہیں سمجھا جائے گا مگر اللہ تعالیٰ اس کا رد کرتا ہے اور فرماتا ہے ہم نے زمین میں ایسے سامان پیدا کر دیئے جن کی وجہ سے وہ حسب ضرورت غذا دے گی خواہ زمین سے نکال کر یا نئی غذا کے ایجاد ہونے سے یا آسمانی شعاؤں کی مدد سے۔“ ( الفضل انٹر نیشنل 23۔3۔96)