مکتوب آسٹریلیا — Page 116
116 وہاں ایک مصنوعی نظام (Simulator) پر تجربات سے ثابت کیا جاچکا ہے کہ جیٹ ہوائی جہاز بغیر ہاتھ پاؤں چلائے محض ذہنی قوت سے بھی چلائے جا سکتے ہیں۔ڈاکٹر جنکر کا کہنا ہے کہ دس بیس سال میں حقیقت کی دنیا میں بھی ہوائی جہاز خیالی و شعوری طاقت کی مدد سے چلائے جاسکیں گے۔چونکہ اس امر کا امکان ہے کہ پائیلٹ ہر وقت اپنی توجہ جہاز پر نہیں رکھ سکے گا اور ادھر اُدھر کے خیالات بھی اس کے ذہن میں پیدا ہوں گے لہذا اس طرح کے آوارہ خیالات کو جہاز کی مشینوں پر منتقل ہونے سے بچانے کے لئے ایک فلٹر بھی لگا ہوگا اور اگر کہیں پائیلٹ کو اونگھ آجائے اور آلہ محسوس کرے کہ اس کو چلانے ولای طاقت کمزور یا ڈھیلی پڑ گئی ہے تو ایک مددگار خود کار نظام جہاز کا کنٹرول سنبھال لے گا۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مسافروں کو ایسے جہاز پر سفر کرنے کے لئے آمادہ کیا جاسکے گا جس کا چلانے والا اونگھ یا نیند کا شکار ہو سکتا ہو۔جب اس طرح کا آلہ ایجاد ہو جائے گا تو وہ کاروں ،ٹرینوں، کارخانوں، گھروں اور ہسپتالوں وغیرہ میں بھی استعمال ہو سکے گا۔سوچنے کی بات ہے کہ وہ خدا جس نے انسان کو ایسی شعوری طاقت عطا کی ہے جس سے جہاز اڑائے اور کنٹرول کئے جاسکتے ہیں کیا وہ خود انے ارادہ کی قوت سے محض ایک ”کن“ کہنے سے کارخانہ عالم میں تیرنے والے کھربوں کھرب ستاروں کو وجود میں لانے اور اڑائے رکھنے پر قادر نہیں ہوگا! اور پھر اس قدیر و حکیم خدا کو نہ تو اونگھ آتی ہے نہ نیند۔کیا ان مادہ پرستوں کے لئے اب بھی یہ سوچنے کا وقت نہیں آیا کہ اس عالم کون و مکاں کا ایک خالق ہے جوحی و قیوم ہے۔(الفضل انٹر نیشنل 23۔1۔2004)