مکتوب آسٹریلیا — Page 100
100 لہریں ایک دوسرے کے مخالف ہونے کی وجہ سے منسوخ (Cancell) ہو جاتی ہیں۔لہر کا ایک حصہ جب مثبت ہوتا ہے تو دوسرا منفی ہو جاتا ہے۔اس طرح غیر پسندیدہ لہروں میں اختلاف پیدا کر کے، ان کو گھتم گتھا کر کے ان کی طاقت کو صفر کر دیا جاتا ہے لیکن دوسری آوازیں جن کی فریکوئنسی (Frequency) وغیرہ بات چیت کے دوران کم و بیش ہوتی رہتی ہے وہ صاف صاف سنی جاتی ہیں یوں یہ آلہ آپ کو اس قابل بنا دے گا کہ آپ کام کی بات چیت تو سن سکیں لیکن غیر پسندیدہ شور کے سننے سے بچ جائیں۔کیا خوب ہو کہ کل کلاں کوئی ایسا آلہ بھی ایجاد ہو جائے کہ جس کے لگانے سے ہمارے کان نیکی اور تقویٰ کی باتوں کو تو صاف سن سکیں لیکن جب خلاف تقویٰ باتوں ، غیبت، جھوٹ اور فساد وغیرہ کا غیر پسندیدہ شور ہو تو وہ کانوں میں داخل ہی نہ ہو سکے۔بس آلہ کانوں کو لگایا اور گناہوں سے بیچ گئے۔لیکن درحقیقت اس کے لئے کسی خاص آلہ کی ایجاد کی ضرورت نہیں۔انسان اگر چاہے تو وہ اپنے آپ کو اس بات کا عادی بنا سکتا ہے کہ وہ اچھی باتیں تو سے مگر بری باتوں سے بہرہ ہو جائے۔اس کے لئے صرف قوت ارادی کی ضرورت ہے۔جیسا کہ ایک عربی شاعر کہتا ہے: أَهُمُّ عَنِ الشَّيْيَ الَّذِي لَا أُرِيدُهَ وَاسْمَعُ خَلْقَ اللَّهِ حِيْنَ يُرِيدُ کہ جس بات کو میں پسند نہیں کرتا اس سے میں بہرہ ہو جاتا ہوں اور جب میں چاہتا ہوں تو میں اللہ کی مخلوق کی باتیں پوری توجہ سے سنتا ہوں۔(الفضل انٹرنیشنل)