مجالس عرفان — Page 70
6۔کیا واقعہ ہو گیا۔اور حضرت خدیجہ نے جب اپنے کزن کو بلایا اور کہا کہ ان کو بتاؤ وہ مذہبی کتب کے کافی عالم تھے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نے کہا کہ تناؤ مجھے خود سناؤ کیا واقعہ ہوا کس طرح فرشتہ رونما ہوا ہے کیا اس نے کہا ہے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ساری بات سنائی تو ان کا جواب گئیں۔انہوں نے کہا کہ ایک وقت آئے گا جب تیری قوم تجھ سے بہت بدسلوکی کرے گی تجھے اپنے وطن سے نکال دے گی اور شدید ظلم تیرے ماننے والوں پر توڑے جائیں گے۔کاش میں اس وقت زندہ ہوں اور میں بھی تیزی خاطر وہ دکھ اٹھانے والوں میں شامل ہوں اور میں بھی تیرے آگئے اور پیچھے مدد کر رہا ہوں۔جب یہ بات سنی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دل اتنا معصوم تھا کہ آپ نے فرمایا کیوں میں نے کون سا ایسا گناہ کیا ہے کسی سائیں نے کون سا رکھ دیا ہے کسی کو کہ قوم میرے ساتھ ایسا سلوک کرے گی۔انہوں نے کہا اے محمد یہ ہمیشہ سے مقدر ہے۔خدا کے ہر پیارے سے جو خدا کی خاطر کھڑا ہوتا ہے۔ایک کام یہ اس کے ساتھ یہی سلوک ہوتا ہے۔اس لئے کوئی استثناء نہیں۔اور پھر جب نبوت آگے بڑھتی ہے تو آپ کو پتہ ہے کیا سلوک ہوئے تو یہ کوکیسے سکتا ہے کہ خدا نے یہ کروانا ہو اس کے ساتھ اور صرف وہم پر ہی سلسلہ چل رہا ہو اور احساسات پر ہم اس لئے امام مہدی مانتے ہیں کہ اللہ تعالے نے واضح طور پر آپ سے کلام کیا اور فرمایا میں تجھے امام بناتا ہوں زمانے کا تو وہی امام مہدی ہے جس کی خبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی اور اس کا ظاہری ثبوت یہ نکلا کہ اس دعوے کے ساتھ ہی ساری قوم نے آپ کو چھوڑ دیا۔اپنے بیٹوں نے انکار کر دیا۔