محضرنامہ

by Other Authors

Page 91 of 195

محضرنامہ — Page 91

41 آیت تمام النبین کی تفسیر مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِينَ وَ كَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ) (سورۃ احزاب غ ) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی بالغ مرد کے باپ نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں کسی بالغ مرد کا باپ نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہوتا کہ وہ نبی نہیں ہے۔اگر قرآن کریم نے یہ دلیل پیش کی ہوتی کہ جو شخص کسی بالغ مرد کا باپ نہ ہو وہ نبی نہیں ہوسکتا یا قرآن کریم سے پہلے بعض قوموں کا یہ عقیدہ ہوتا تو ہم کہتے کہ قرآن کریم میں اس عقیدہ کا استثناء بیان کیا گیا ہے یا اس عقیدہ کی تردید کی گئی ہے لیکن یہ تو کسی قوم کا مذہب نہیں کہ جو کسی مرد کا باپ نہ ہو وہ نبی نہیں ہوسکتا۔مسلمان اور عیسائی تو حضرت یحیی علیہ السلام کی نبوت کے قائل ہیں اور یو دی ان کی بزرگی مانتے ہیں مگر یہ کوئی تسلیم نہیں کرتا کہ ان کے ہاں اولا د تھی کیونکہ ان کی تو شادی بھی نہیں ہوئی تھی۔پس اس آیت کے معنے کیا ہوئے کہ محد تم میں سے کسی بالغ مرد کے باپ نہیں لیکن نبی ہیں۔لازمگر اس فقرہ کی کوئی وجہ ہونی چاہیے۔پھر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ایک شخص جس کے متعلق لوگ غلطی سے یہ کہتے تھے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا متبنی ہے اس اظہار کے بعد کہ وہ متبنی نہیں۔اِس امر کا کیا تعلق تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ذکر کیا جاتا اور پھر اس بات کا کیا تعلق تھا کہ آپ کی ختم نبوت کا ذکر کیا جاتا۔کیا اگر زید رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کو طلاق نہ دے دیتے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے شادی نہ کرتے تو ختم نبوت کا مسئلہ مخفی رہ جاتا۔کیا اتنے اہم اور عظیم الشان مسائل یونہی ضمناً بیان ہوا کرتے ہیں ؟ اس کے علاوہ جیسا کہ ہم او پر لکھ چکے ہیں کسی مرد کے باپ ہونے یانہ ہونے کے ساتھ نبوت کا کوئی تعلق نہیں۔پس ہمیں قرآن کریم پرغور کرنا چاہیے کہ کیاکسی اور جگہ کوئی ایسی بات بیان ہوئی ہے جس سے اگر بالغ مردوں کے باپ ثابت نہ