ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 42
تھا۔دونوں گھبرا گئے کہ نہ جانے کیا غلطی ہوئی ہے بھاگے بھاگے گئے اور سبب دریافت کیا۔آپ نے فرمایا ابوایوب تم نے پیاز ڈال دی تھی اور میں بو کے سبب اُس کو نہیں کھا تا کیونکہ مجھ کو فرشتوں سے ہم کلام ہونا ہوتا ہے تم شوق سے کھاؤ۔ابوایوب انصاری" کہتے ہیں اُس روز کے بعد میں نے کبھی رسول اللہ کے کھانے میں پیاز نہیں ڈالی۔ابن ہشام اردو ترجمہ جلد اوّل صفحہ 334) حضرت ابوایوب انصاری کے دو منزلہ مکان کے متعلق ایک روایت ہے کہ آنحضرت الی یہ کام کی آمد سے ایک ہزار سال پہلے علاقہ یمن کا ایک بادشاہ تھا جس کا نام تبع ابنِ حسان حمیری تھا اس کی سلطنت اتنی وسیع تھی گویا ساری دنیا کو فتح کر لیا تھا جب تبع ملک پر ملک فتح کرتا ہوا میثرب پہنچا تو یہاں کے یہودی علماء نے اس کو بتایا کہ یہ علاقہ کوئی معمولی علاقہ نہیں ہے یہاں آئندہ زمانے میں ایک نبی ظاہر ہوگا جس کا نام محمد ہو گا وہ ہجرت کر کے آئے گا اور قیام کرے گا پھر وہ یہاں سے کبھی نہیں جائے گا،۔شہر کی عظمت کا علم ہوا تو بادشاہ کو خدا کا خوف محسوس ہوا تباہی سے ہاتھ روک لئے خانہ کعبہ کی زیارت کی ، یثرب میں ایک شاندار محل بنوایا تا کہ جب وہ عظیم الشان نبی ہجرت کر کے آئے تو اس میں قیام کرے اُس نے ایک تحریر بھی لکھی جس میں اپنے تابع دار ہونے کا اقرار کیا اپنے علماء کو میٹر ب میں ٹھہرنے کی اجازت دی شاہ تبع کا سجا سجا یا محل اور وہ تحریر نسل در نسل ایک عالم کے خاندان کی تحویل میں رہی وقت گذرنے کے ساتھ محل کی شان و شوکت باقی نہ رہی تاہم جو حصہ باقی تھا اسی میں آنحضور صلی اینم کا قیام ہوا کیونکہ حضرت ابو ایوب انصاری اُسی عالم کی نسل سے تھے۔اسی طرح جس زمین پر مسجد نبوی 42