لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 86

لُجَّةُ النُّور ۸۶ اردو ترجمہ على الأيام، ولا ضياع لما ينهبه لے سکیں۔خشک سالی ، شیر کی طرح حملہ آور سَنَةُ جَماد وجوع صائل بھوک، قابلِ کاشت زمین نہ ہونے اور حکام کی كالضرغام، وعدم الريف طرف سے زمین کی فروخت پر پابندی نے ان کو ومنع بيع الأرض من الحكّام تباہ کر دیا۔مصیبت اتنی سخت ہوگئی کہ عورتوں کے وتشتد البلية حتى تُسقط حمل ضائع ہو گئے۔بچے بلکتے ہیں لیکن انہیں النساء الأجنّةَ، ويُعول الأبناء خوراک نہیں ملتی۔باوجود ان سب باتوں ) ولا يجدون الميرة ومع ذالك کے بادشاہ کا خراج وصول کرنے کے لئے سپاہی يستقـريهم الشرطيون لخراج اُن کو تلاش کرتے پھرتے ہیں۔اور انہیں المَلِكِ وياخذونهم أخذةً نہایت سختی سے پکڑتے ہیں۔اور انہیں شکنجہ میں (۹) رابية۔ويعاقبون ويقولون أين جکڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم بھاگتے کہاں تفرون وعليكم هذه باقية ہو۔ابھی تو تمہارے ذمہ اتنا (خراج) باقی فيبكون ويقولون يا ليت المَنِيَّةُ ہے۔پس وہ بے چارے) روتے ہیں اور كانت القاضية۔ولا يسمعون کہتے ہیں کہ کاش موت ہی ہماری زندگی کا زفيرهم ولو ألقوا معاذيرهم۔فیصلہ کر دے۔وہ ان کی کوئی فریاد نہیں سنتے هذه عيشة رعاياهم و هم علی خواہ وہ اپنے ( کتنے ہی ) عذر پیش کریں۔یہ الأرائك يضحكون ويشربون ہے اُن کی رعایا کی زندگی جبکہ وہ (خود) تختوں الخمر ويتمرمرون۔وبالجواری پر بیٹھے ہنستے رہتے ہیں۔وہ شراب پیتے ہیں اور يلعبون، وفي الليالی یزنون، وفی جھومتے ہیں اور چھو کر یوں سے کھیلتے ہیں، راتوں النهر يظلمون۔وإذا جاء هم أحد کو زنا کرتے اور دنوں میں ظلم کرتے ہیں۔اور اگر من الذين أصابتهم مصيبة اُن کے پاس مصیبت زدوں اور حوادث رسیدوں وأخذتهم داهية فيشتمون میں سے کوئی آجائے تو وہ گالیاں دیتے اور ويدعون، وإذا عرض عليهم | دھکے دیتے ہیں۔اور جب اُن کے سامنے اُن کی