لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 58

لجَّةُ النُّور ۵۸ اردو ترجمہ الأعداء ، ويُطفئ ما ظهر من دشمنوں کے حملے کو دور کرتا ہے اور جو بھی نار المراء ، حتى لا یبقی جھگڑے کی آگ ظاہر ہو، اُسے بجھاتا ہے یہاں لمسلم من أيدى العِدا فزع تک کہ ایک مسلمان کو دشمنوں کے ہاتھ سے ولا في هدم بيت الدین لکافر خوف نہیں رہتا اور نہ ہی کسی کافر کے لئے دین طمع۔وهكذا تمشى امر کے گھر کو منہدم کرنے کی کوئی امید و طمع باقی رہتی الله على ممر الدهور۔ولزم ہے۔اللہ تعالیٰ کا امر مرورِ زمانہ سے اسی طرح ظهور المفاسد لمعان هذا جاری ہے۔اور ان مفاسد کا ظہور اس روشنی کے الظهور۔وإن كنت لا تعرف ظہور کے لئے لازم تھا۔اور اگر تو اس سنت سے هذه السنة فاقرأ في القرآن واقف نہیں تو قرآن میں پڑھ جو موسیٰ" کو کہا گیا (۵۲) ما قيل لموسى۔اِذْهَبْ إِلى اِذْهَبْ إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى ! فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى۔فانظر ( یعنی فرعون کی طرف جا۔یقیناً اس نے سرکشی كيف اقتضى طغیان فرعون اختیار کی ہے )۔پس دیکھ کہ کس طرح فرعون کی وجود الكليم، وكيف أرسل سرکشی نے کلیم اللہ (علیہ السلام) کے وجود کا الله رسوله عند غلو هذا الكافر تقاضا کیا ، اور کس طرح اللہ تعالیٰ نے اس لیم اللئيم۔ثم لَمّا ظهر الفساد کافر کے غلو کے وقت اپنے رسول کو بھیجا۔پھر وكثرت أحزاب المفسدين جب حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے | فی زمان خاتم النبيين، وعُبدت زمانہ میں فساد ظاہر ہوا اور مفسدوں کے الأصنام، وتُرك القدير گروہوں کی کثرت ہوگئی اور بتوں کی پوجا العلام، و وقع فى دوكة کی جانے لگی اور علیم وقد بر خدا کو چھوڑ دیا گیا وبوح الأقوام ، و أباحَ اور تمام قو میں لڑائی جھگڑا اور اکھاڑ پچھاڑ الفسق والمعصية اللثام کرنے لگیں اور کمینے لوگوں نے فسق اور معصیت ومابقى شغلهم إلا الأكل كو حلال قرار دے دیا اور سوائے کھانے پینے النازعات: ۱۸