لُجَّةُ النّوْر — Page 50
لُجَّةُ النُّور ۵۰ اردو ترجمہ ويريد كل أحد منهم پیدا نہ ہو جائیں۔ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا أن يكون حَظِيًّا و مالک ہے کہ وہ صاحب قدر و دولت اور بلند ا قبال والا الفضة والذهب ، فيسعى ہو اور سیم و زر کا مالک ہو۔پس اس کے لئے وہ له بجهد النفس فى لیله و اپنی پوری جدو جہد سے دن رات دوڑ دھوپ کرتا جدوجہد نهاره و يُذيب جسمه في ہے اور کتابوں کے مطالعہ سے اپنے جسم کو گداز کر مطالعة الكتب، وترى كثيرًا دیتا ہے۔اور تو ان میں سے بہتوں کو دیکھے گا کہ منهم أسلهم شدّة جهدهم أو ان کی سخت محنت نے انہیں مدقوق بنا دیا ہے یا اس أخَذهم الصَرَعُ بهذا السبب۔سبب سے انہیں مرگی نے آن لیا ہے۔زر کی حرص وذهب الحیاة فی هوی میں زندگی ختم ہوگئی اور وہ مر گئے ، اور اُن کے الذهب، وماتوا وغابت ڈھانچے بلبلوں کی طرح غائب ہو گئے۔تمام حیلے أشباحهم كالحُبَب، وانسدت ختم ہو گئے ، پھر موت آئی اور غارت گری کے الحيل ثم نزل الأجل فخلس ہاتھوں ان کی روحیں اُچک لی گئیں۔پس یہ ہے أرواحهم بيد الحرب، فهذه اِس دنیا کا انجام اور اس کے لئے شدید جد و جہد کا مآل الدنيا و مآل شدّة الجهد نتیجہ اور اس (دنیا) کی (مختلف) شاخوں میں لها ونموذج شعبة من الشعب سے ایک شاخ کا نمونہ۔وائے حسرت! ان يا حسرة على الذين اغتروا لوگوں پر جو اس کی مٹھاس اور اس کی تر و تازگی پر بحلاوتها ونضارتها ونسوا مرارة فریفتہ ہو گئے اور موت کی تلخی کو بھول گئے۔جب المنقلب، وإذا قيل لهم اتقوا الله انہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ولا تنسوا حظكم من العقبی آخرت میں اپنے حصہ کو مت بھولو، تو وہ کہتے ہیں قالوا ما العقبي إن هى إلا قصص کہ آخرت کیا ہے؟ یہ تو صرف قصے ہیں جنہیں نحتها أهل العجم والعرب اہل عجم وعرب نے گھڑ لیا ہے۔اور ان میں سے وأفرط كثيـر مـنـهـم فـي الطباع | اكثر مذموم طبائع میں حد سے بڑھ گئے ہیں۔۔۔