لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 41

لجَّةُ النُّور ام اردو ترجمہ ہے إلا ليرغب المصلين فى الطول (یعنی یقیناً اللہ تعالیٰ سخاوت اور جو دو کرم کرنے ۳۵ والإحسان، ليملأوا كيسه والوں کو پسند کرتا ہے اور بخیلوں کو ہلاک کرتا۔بالفضة والعقيان۔وإن كان هذا جیسا کہ اس نے عاداور ارم کو ہلاک کیا ) صرف اس الرجل من الصوفية الذين يبايعهم لئے کہتا ہے کہ نمازیوں کو عطا اور احسان کی ترغیب الناس ليثبتهم الله على التوبة، دلائے تا کہ وہ اس کے کیسہ کو چاندی اور سونے ويكتب في قلوبهم الإیمان سے بھر دیں۔اور اگر ایسا شخص صوفیاء میں سے ہو ويغرس فيها أشجار المحبّة، جن کی لوگ اس لئے بیعت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ويزين التقوى فى أعينهم انہیں تو بہ پر ثابت قدم رکھے اور ان کے دلوں میں ويشرح صدورهم لأعمال ایمان لکھ دے اور ان میں محبت کے شجر لگا دے اور الخير والبر والصلاح والعفة تقویٰ کو ان کی آنکھوں میں مزین کر دے۔اور فلا شك أن قلب هذا المرء خير، نیكی، بھلائی اور پرہیز گاری کے اعمال کے و زَرعه الإيماني يشهد عليه لئے ان کے سینے کھول دے۔پس کوئی شک نہیں ويلومه، ويلعنه بما يخالف کہ اس شخص کا دل اور اس کا تخم ایمانی اس کے ظاهره باطنه ويقول له يا هذا خلاف گواہی دے گا اور اسے ملامت کرے گا اور ما هذا الشرك الذي نصبته اس پر لعنت کرے گا کیونکہ اس کا ظاہر اس کے باطن والشرك الذي ارتكبته کے خلاف ہے۔اور اسے کہے گا: اے فلاں ! یہ کیسا ألا تعلم أنك رُجيلٌ ما حظيت جال ہے جو تو نے بچھا رکھا ہے؟ اور کیسا شرک ہے مثقال ذرة من علم الفقراء و جس کا تو ارتکاب کر رہا ہے؟ کیا تو نہیں جانتا کہ تو لا من حلم الصلحاء وما أُعطی ایک معمولی سا آدمی ہے جسے فقراء کے علم اور صلحاء لك سر من أسرار الدين، وما کے علم سے ذرہ بھر حصہ بھی نہیں ملا اور نہ ہی تجھے مس قلبك نورٌ من أنوار الشرع دین کے رازوں میں سے کوئی راز عطا کیا گیا ہے المتين، وما شُرح صدرك و اور نہ ہی شرع متین کے انوار میں سے کسی نُور