کونپل — Page ii
( احمدی بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ) ہر بچہ فطرتِ صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے۔اور نیکی کی روح اپنے اندر رکھتا پھر اُس کے ماں باپ اُسے سکھا کر کبھی یہودی بنا دیتے ہیں۔کبھی نصرانی بنا دیتے ہیں اور کبھی مجوسی بنادیتے ہیں۔(بخاری کتاب الخبائر ) ہے ہیں تم جانتے ہو برسات میں جب آم کی گٹھلیاں زمین میں اُگ آتی تو بچے اکھیڑ کر اُس کی پپیاں بناتے ہیں۔لیکن اگر اُس آم کی گٹھلی پر پانچ برس گزر جائیں تو باوجودیکہ یہ لڑکا بھی پانچ چھ برس گزرنے پر جوان اور مضبوط ہو جائے گا لیکن پھر اُس کا اُکھیڑنا دشوار ہو جائے گا پس معلوم ہوا کہ جب تک جڑ زمین میں مضبوطی کے ساتھ نہ گڑ جاوے اُس وقت تک اُکھیڑنا آسان ہے اور جڑ مضبوط ہو جانے کے بعد دُشوار عادات و عقائد بھی درخت کی طرح ہوتے ہیں۔بُری عادت کا اب اُکھیڑنا آسان ہے لیکن جڑ پکڑ جانے کے بعد اُنہیں اُکھیڑنا یعنی اُن کا ترک کرنا ناممکن ہوگا۔بعض بچوں کو جھوٹ بولنے کی عادت ہوتی سے ہی اس کو دور نہ کرو گے تو پھر کی اُس کا دُور ہونا مشکل ہوگا۔اگر شروع ہم نے دیکھا ہے کہ جن کو بچپنے میں جھوٹ کی عادت پڑ گئی ہے پھر عالم فاضل کر بھی اُن سے جھوٹ کی عادت نہیں چھوٹی ہے۔(حضرت مولوی حکیم نور الدین خلیفة المسیح الاوّل) وو بدر “ ۲۸ جنوری ۱۹۰۸ء ہے۔ہو