کتابِ تعلیم — Page 94
۹۴ مردوں کی جگہ قبرستان میں گئے اور روتے رہے۔تو کیا آپ کی بیویاں حفظ نفس یا اتباع شہوت کی بنا پر ہو سکتی ہیں یہ غرض کہ خوب یاد رکھو کہ خدا کا اصل منشاء یہ ہے کہ تم پر شہوات غالب نہ آویں اور تقویٰ کی تکمیل کے لئے اگر ضرورت حقہ پیش آدے تو اور بیوی کر لو۔۔۔پس جاننا چاہیئے کہ جو شخص شہوات کی اتباع سے زیادہ بیویاں کرتا ہے وہ مغز اسلام سے دور رہتا ہے۔ہر ایک دن جو چڑھتا ہے۔اور رات جو آتی ہے اگر وہ تلخی سے زندگی میسر نہیں کرتا اور رو تا کم یا با لکل ہی نہیں روتا اور ہنست زیادہ ہے۔تو یا د رہے کہ وہ ہلاکت کا نشانہ ہے۔استیفاء لذات اگر حلال طور پر ہو تو حرج نہیں جیسے ایک شخص ٹو پر سوار ہے اور راستہ میں اسے نہاری وغیرہ اس لئے دیتا ہے کہ اس کی طاقت قائم رہے۔اور وہ منزل مقصود تک اسے پہنچا دے جہاں خدا تعالیٰ نے سب کے حقوق رکھتے ہیں وہاں نفس کا بھی حق رکھا ہے کہ وہ عبادت بجالا سکے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی میلانی کس طرف تھا اور رات دن آپ کس فکر میں رہتے تھے۔بہت سے ملا اور عام لوگ ان باریکیوں سے نا واقف ہیں۔اگر ان کو کہا جائے کہ تم شہوات کے تابع ہو تو جواب دیتے ہیں کہ کیا ہم حرام کرتے ہیں۔شریعت نے ہمیں اجازت دی ہے تو ہم کرتے ہیں۔ان کو اس بات کا علم نہیں۔کہ بے محل استعمال سے حلال بھی حرام ہو جاتا ہے۔مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالَّا نَسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات : ۵۷ ) سے ظاہر ہے کہ انسان صرف عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔پس اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے جس قدر چیز اسے درکا ر ہے اگر اس سے زیادہ لیتا ہے تو گو وہ شے حلال ہی