کتابِ تعلیم — Page 71
انسان اس حقیقی رشتہ کو جو اس کو خدا سے ہے ممکن قوت سے جینز فعل میں نہلا دے۔لیکن جب انسان خدا سے منہ پھیر لیو سے، تو اس کی مثال ایسی ہو جاتی ہے جیسا کہ کوئی شخص ان کھڑکیوں کو بند کر دیو سے جو آفتاب کی طرف تھیں اور کچھ شک نہیں کہ ان کے بند کر نے کے ساتھ ہی ساری کو ٹھڑی میں اندھیرا پھیل جائے گا۔اور وہ روشنی جو محض آفتا ہے ملتی ہے یک لخت دور ہو کہ ظلمت پیدا ہو جائے گی۔اور وہی ظلمت ہے جو ذلالت اور جہنم سے تعبیر کی جاتی ہے۔کیوں کہ دکھوں کی وہی چیڑ ہے اور اس ظلمت کا دور ہونا اور اس جہنم سے نجات پانا اگر قانون قدرت کے طریق پر تلاش کی جائے تو کسی کے مصلوب کرنے کی حاجت نہیں۔بلکہ وہی کھڑکیاں کھول دینی چاہئیں جو ظلمت کی باعث ہوئی تھیں۔کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ ہم در حالی کہ نور پانے کی کھڑکیوں کے بند رکھنے پر اصرار کریں کیسی روشنی کو پا سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔سو گناہ کا معاف ہونا کوئی قصہ کہانی نہیں جس کا ظہور کسی آئیندہ زندگی پر موقوف ہو اور یہ بھی نہیں کہ یہ امور محض بے حقیقت یا مجازی گورنمنٹوں کی نافرمانیوں اور قصور بخشی کے لہنگ میں ہیں۔بلکہ اس وقت انسان کو مجرم اور گنہگا یہ کہا جاتا ہے۔کہ جب وہ خدا سے اعراض کر کے اُس روشنی کے مقابلہ سے پر سے ہٹ جاتا ہے اور اُس چمک سے ادہر اد ہر ہو جاتا ہے جو خدا سے اترتی اور دلوں پر نازل ہوتی ہے۔در حانی خزائن جلد احت)