کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 45 of 162

کتابِ تعلیم — Page 45

۴۵ اس کے نزدیک نہیں جاتا اور نہیں کھاتا۔کیوں کہ اسے یقین ہے کہ میں اگر کھائوں گا تو مر جاؤں گا۔پس اگر خدا تعالیٰ کی ہستی پر بھی یقین ہوتا تو وہ اسے مالک۔خالق اور قادر جان کرنا فرمانی کیوں کرتا ؟ پس ظاہر ہے کہ بڑا ضروری مسئلہ ہستی باری تعالیٰ کا ہے۔اور قابل قدر وہی مذہب ہو سکتا ہے جو کہ اسے نئے نئے لباس میں پیش کرتا رہے تا کہ دلوں پر اثر پڑ سکے۔دراصل یہ مسئلہ اُم المسائل ہے اور اسلام اور غیر مذاہب میں ایک فرقان ہے۔ملفوظات جلد چهارم ) یا لہو ولد سے زیادہ نہیں معرفت الہی میں حقیقی لذت سے" دنیا اور دنیا کو خوشیوں کی حقیقت لہو و لعب سے زیادہ نہیں۔عارضی اور چند روزہ ہیں اور ان خوشیوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان خدا سے دُور جایڑتا ہے۔مگر خدا کی معرفت میں جو لذت ہے۔وہ ایک ایسی چیز ہے کہ جو نام الکھوں نے دیکھی نہ کانوں نے شنی نہ کسی اور جس نے اس کو محسوس کیا ہے۔وہ ایک چیر کو نکل جانے والی چیز ہے ہر آن ایک نئی راحت اس سے پیدا ہوتی ہے جو پہلے نہیں دیکھی ہوتی۔خدا تعالیٰ کے ساتھ انسان کا ایک خاص تعلق ہے۔اہل عرفان لوگوں نے بشریت اور ربوبیت کے جوٹھ پر بہت لطیف بھٹیں کی ہیں۔اگر بچے کا منہ پتھر سے نکالیں تو کیا کوئی دانش مند خیال کر سکتا ہے کہ اس