کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 107 of 162

کتابِ تعلیم — Page 107

1۔6 تم کسی طرح پاہی نہیں سکتے۔جب تک تم اپنی رضا چھوڑ کہ اپنی لذات چھوڑ کر اپنی عورت چھوڑ کر اپنامال چھوڑ کر اپنی جان چھوڑ کر اسکی راہ میں وہ تلخی نہ اٹھاؤ جو موت کا نظارہ تمہارے سامنے پیش کرتی ہے۔لیکن اگر تم ملتی اٹھا لو گے تو ایک پیار سے بچے کی طرح خدا کی گود میں آجاؤ گے اور تم ان راستبازوں کے وارث کے جاؤ گے۔جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور ہر ایک نعمت کے درواز سے تم پہ کھولے جائیں گے۔لیکن تھوڑے ہیں جو ایسے ہیں۔خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تقویٰ ایک ایسا درخت ہے جس کو دل میں لگانا چاہیئے۔وہی پانی جسے تقویٰ پر ورش پاتی ہے تمام باغ کو سیراب کر دیتا ہے۔تقویٰ ایک ایسی جڑ ہے کہ اگر وہ نہیں تو سب کچھ پہنچ ہے اور اگر وہ باقی رہے تو سب کچھ باقی ہے۔انسان کو اس فضولی سے کیا فائدہ جو زبان سے خدا طلبی کا دعویٰ کرتا ہے لیکن قدم صدق نہیں رکھتا۔دیکھو میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ آدمی بلاک شدہ ہے جو دین کے ساتھ کچھ دنیا کی ملونی رکھتا ہے اور اس نفس سے جہنم بہت قریب ہے۔جس کے تمام انسان سے خدا کے لئے نہیں ہیں بلکہ کچھ خدا کے لئے اور کچھ دنیا کے لئے بیس اگر تم دنیا کی ایک ذرہ بھی متمونی اپنے اغراض میں رکھتے ہو تو تمہاری تمام عبادتیں عبث ہیں۔اس صورت میں تم خدا کی پیروی نہیں کرتے۔بلکہ شیطان کی پیروی کرتے ہو۔تم ہر گز توقع نہ کرو کہ ایسی حالت میں خدا تمہاری مدد کر سے گا۔بلکہ تم اسی حالت میں زمین کے کیڑے ہو اور تھوڑے ہی دنوں تک تم اس طرح ہلاک ہو جاؤ گے۔جس طرح کیڑے ہلاک ہوتے ہیں اور تم میں خدا نہیں ہوگا۔بلکہ تمہیں ہلاک کر کے خدا خوش ہوگا۔لیکن اگر تم اپنے نفس