خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 80 of 682

خطبات وقف جدید — Page 80

80 حضرت مصلح موعود تھے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اشتہار دینے شروع کئے تھے کہ میرے ساتھ وفات وحیات صحیح پر مباحثہ کر لو اور شرائط مناظرہ طے ہو رہی تھیں۔حضرت خلیفہ اسیح الاول فرماتے تھے کہ اپنے دعوی کے ثبوت میں صرف قرآن کریم پیش کیا جائے اور مولوی محمد حسین صاحب کہتے تھے کہ حدیثیں پیش کی جائیں۔آخر حضرت خلیفہ اول نے بحث کو چھوٹا کرنے کیلئے فرمایا چلو بخاری کی احادیث پیش کر دی جائیں اس پر مولوی محمد حسین بٹالوی بڑے خوش ہوئے اور انہوں نے سمجھا کہ میری فتح ہوئی ہے جب میاں نظام الدین صاحب لاہور پہنچے تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اہل حدیث کی مسجد میں اپنے دوستوں میں بیٹھے تھے اور کہہ رہے تھے کہ دیکھو ایک طرف سے مرزا صاحب کا پہلوان نورالدین نکلا اور دوسری طرف سے اہلحدیث کے پہلوان کے طور پر میں کھڑا ہوا۔میں نے کہا حدیث اس نے کہا قرآن اور دونوں اسی پر اصرار کرتے رہے۔آخرمیں نے اسے یوں پنچا اور یوں رگیدا اور اس طرح گرایا کہ اسے مانا پڑا اور کہنے لگا کہ بخاری بھی پیش کر سکتے ہو۔اتنے میں میاں نظام الدین صاحب جا پہنچے اور کہنے لگے جانے دیں اس بحث کو۔میں تو مرزا غلام احمد صاحب کو بھی جو مولوی نورالدین صاحب کے سردار ہیں منوا آیا ہوں۔مولوی محمد حسین صاحب نے کہا کیا منوا آئے ہو؟ میاں نظام الدین نے کہا مرزا صاحب تو کہتے تھے کہ ایک آیت ہی کافی ہے لیکن میں کہہ آیا ہوں کہ حیات مسیح کے ثبوت میں میں دس آیات لکھوا کر لا دیتا ہوں۔اس لئے آپ جلدی سے مجھے حیات مسیح کے ثبوت میں قرآن کریم کی دس آیتیں لکھ دیں۔مولوی محمد حسین صاحب تو فخر کر رہے تھے کہ میں نے مولوی نورالدین کو یوں پنچا اور یوں پچھاڑا اور یوں دلیلیں دیں آخر وہ حدیث کی طرف آگئے میاں نظام الدین صاحب کی بات سن کر انہیں غصہ آگیا اور وہ کہنے لگے بے وقوف کہیں کا میں مہینہ بھر نورالدین کے ساتھ بحث کرتا رہا اور آخر اسے اس طرف لایا کہ حدیث پیش کی جائے گی اور تو پھر بحث کو قرآن کی طرف لے گیا ہے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا یہ فقرہ میاں نظام الدین صاحب کو اس طرح چھا کہ وہ اسی وقت کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے اچھا مولوی صاحب پھر جدھر قرآن ادھر میں اگر قرآن مرزا صاحب کے ساتھ ہے۔تو میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں اور یہ کہہ کر وہ واپس آگئے اور قادیان آ کر بیعت کرلی۔پس ہم بھی ادھر ہی ہوں گے جدھر قرآن ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ نے اسلام کو تمام دنیا کیلئے نازل کیا ہے اس لئے ساری دنیا میں ہی اسلام کی اشاعت کرنا ہمارا فرض ہے کسی خاص قوم یا ملک تک ہماری مساعی محدود نہیں رہنی چاہیے۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس وقت مقدم ہندوستان ہے جس میں ہمارا اصل مرکز ہے اور جس کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کرشن قرار دیا گیا ہے جس درخت کا تنا