خطبات وقف جدید — Page 471
471 حضرت خلیفہ مسیح الرابع کی وقف جدید کی قربانی میں نمبر ایک جماعت بن جائے۔جرمنی سب چندوں میں اللہ کے فضل سے اچھا اور مخلص اور متوازن قربانیاں کرنے والا ہے۔وقف جدید میں جرمنی کی پوزیشن نمبر تین ہے اور اب آپ انتظار کر رہے ہونگے کہ برطانیہ کی باری آجائے گی۔میں بھی یہاں رہتا ہوں آج کل لیکن افسوس کہ کینیڈا نے برطانیہ کو پیچھے چھوڑ دیا حالانکہ کینیڈا باقی چندوں کے لحاظ سے ان سے پیچھے ہے۔اسکی مالی استطاعت جماعت برطانیہ کی مالی استطاعت سے کم ہے مگر اسکو خدا نے توفیق بخش دی کہ کینیڈا کے بتیس ہزار پاؤنڈ کے مقابل پر برطانیہ کی طرف سے چھبیس ہزار پاؤنڈ پیش ہوئے ہیں۔اور خطرناک بات یہ ہے کہ انڈیا چھٹے نمبر پر آکر اکیس ہزار نو سو تریسٹھ پاؤنڈ کی قربانی پیش کر رہا ہے جب کہ اس سے پہلے چند ہزار سے زیادہ نہیں ہوا کرتی تھی۔اب ہندوستان اور برطانیہ کے اقتصادی حالات کا موازنہ بھی کریں اور احمدیوں کی تعداد کا موازنہ بھی کریں اور پھر ان کو ملا کر دیکھیں تو پھر صحیح تصویر سامنے آئیگی۔تعداد کے لحاظ سے اس وقت ہندوستان کی تعداد جو میں نے اندازہ لگایا ہے وہ تقریباً سات گنا زیادہ ہے۔یعنی اگر ایک احمدی ہے یہاں تو وہاں سات احمدی ہیں اور جو بہت سے نو مبایعین اب آ رہے ہیں ان کو میں شمار نہیں کر رہا کیونکہ ابھی ہم نے اس کو سنبھالا نہیں ہے۔پچاس ہزار جو گزشتہ سال آئے تھے ان کو تو فوراً اس میدان میں نہیں جھونک سکتے کیونکہ ان کی تربیت پر ابھی کچھ وقت لگے گا۔وہ احمدی جو مستحکم ہو چکے ہیں ان میں سے اکثر چندہ دہندگان نکلے ہیں جو پرانے احمدی تھے اور اس طرح نسبت ایک اور سات کی ہے یعنی ان کو عددی فوقیت آپ پر سات گنا کی ہے لیکن اقتصادی نقطہ نگاہ سے اگر دیکھیں تو آپ کو ان کے مقابل پر فی آدمی باره گنا زیادہ آمد ہوتی ہے اور یہ ایک محفوظ اندازہ لگایا گیا ہے جو یونائیٹڈ نیشنز کے چھپے ہوئے اعدادوشمار سے نکالا ہے۔کچھ عرصہ پہلے رفیق چانن صاحب نے جو اقتصادیات سے تعلق رکھتے ہیں مجھے یہ رسالہ بھیجا جو تازہ چھپ کے آیا تھا اور کہا کہ آپ نے چندوں کے موازنے کرنے ہوتے ہیں تو اس پہلو کو بھی مدنظر رکھ لیا کریں کہ کسی قوم میں مالی استطاعت کیا ہے اور اقتصادی حالت کیسی ہے۔تو جواب تو میں نے انکو یہی دیا تھا یا ا بھی لکھوانا ہے کہ واقعہ یہ ہے کہ یہ باتیں تو ہم اقتصادی جائزوں کے طور پر پیش کر ہی نہیں رہے یہ تو ذریعے ہیں ایک دوسرے سے مقابلہ پیدا کرنے کے فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ کے بہانے ملتے ہیں اور اللہ کے فضل سے یہ باتیں کام کر بھی رہی ہیں۔اگر میں اقتصادی گہرائیوں میں اتر کر یہ مواز نے شروع کر دوں کہ دراصل کیا بات ہے اصل میں کون آگے ہے تو یہ سارا لطف بھی ہاتھ سے جاتا رہے گا اور ان باتوں کی اکثر سمجھ بھی نہیں کسی کو آنی تو اسلئے مجھے چلنے دیں اسی طریقے سے۔جماعت کو ضرورت ہے اچھی باتوں کی تحریک کی اور تحریک اسی غرض سے کی جاتی ہے اسلئے آپ اپنے نقطہ نظر سے جو مرضی سمجھیں مگر جس انداز سے مجھے