خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 434 of 682

خطبات وقف جدید — Page 434

434 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع لیکن نہ کر سکی تو اچانک میں نے دیکھا کہ تحریک جدید کی ٹانگ میں بولنے کی طاقت پیدا ہوئی اور اس نے کہا بس بس ! اب میں اس سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتی۔تم بڑھنا کم کر دو، ہلکا کر دو۔وقف جدید کی ٹانگ نے جواب دیا یہ میرے بس کی بات نہیں ہے میں اپنے اختیار سے نہیں بڑھ رہی، مجھے بڑھنا ہی بڑھنا ہے۔اس کی تعبیر کچھ تو چندوں کی شکل میں نظر آ رہی ہے۔جس تیز رفتاری کے ساتھ وقف جدید کے چندے گزشتہ سال کے مقابل پر بڑھ رہے ہیں اتنا تیز اضافہ تحریک جدید میں نہیں ہے۔اس کے علاوہ برکت والی تعبیر کے متعلق امید رکھتا ہوں کہ وہ تعبیر پوری ہوگی اور وہ یہ ہے کہ وقف جدید کے عمل کا میدان ہندوستان، بنگلہ دیش اور پاکستان ہیں۔اس وقت یہ صورت ہے کہ تحریک جدید کے تابع جو دوسری جماعتیں ہیں وہ بہت زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اس لئے مجھے امید ہے اور میری دعا ہے کہ جہانگیر صاحب کی یہ خواب ان معنوں میں پوری ہو کہ اچانک دیکھتے دیکھتے بنگلہ دیش ہندوستان اور پاکستان کی جماعتیں اس تیزی سے آگے بڑھنے لگیں کہ باہر کی جماعتوں سے آگے نکلنے لگیں اور وہ احتجاجاً کہیں کہ تم کچھ بڑھنا کم کر دو اور وہ یہ جواب دیں کہ ہمارے بس کی بات نہیں۔یہ ہمارے رب کی تقدیر ہے جسے ہم بدل نہیں سکتیں اور خدا کرے کہ میری یہ تعبیر بچی نکلے اور اس کو سچا ثابت کر کے دکھلانے میں ان جماعتوں کو جو محنت کرنی ہے، جو دعا کرنی ہے، جس اخلاص سے خدمت کرنی ہے ہم سب مل کر ان کے لئے دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو یہ توفیق بخشے اور واقعہ یہ نظارے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آغاز اس ملک سے ہوا جو آج ان تین ملکوں میں بٹا ہوا ہے یعنی بنگلہ دیش، ہندوستان اور پاکستان اور جہاں سے آغاز ہوا اس علاقے کا پیچھے رہ جانا ایک رنگ میں تکلیف کا موجب ہے۔یہ درست ہے کہ وہاں مخالفت بھی غیر معمولی طور پر زیادہ ہوئی ہے لیکن جب خدا تعالیٰ کی تقدیر فیصلہ فرمائے تو مخالفت کی کوکھ سے تائید کے ایسے دریا بہہ نکلتے ہیں اور اس قد رقوت سے وہ چشمے پھوٹتے ہیں کہ پھر دنیا کی مخالفانہ طاقتوں کی کچھ پیش نہیں جاتی۔پس یہ جو آواز عبد الغنی جہانگیر کو سنائی دی گئی ہے کہ وقف جدید کی تحریک کہتی ہے میرا بس کوئی نہیں ، چاہوں بھی تو رک نہیں سکتی اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کا فضل ہے جو مجھے بڑھاتے ہوئے آگے لے جا رہا ہے اس لئے اس معاملہ میں میرا کوئی اختیار نہیں۔خدا کرے جن معنوں میں میں نے اس کی تعبیر سوچی ہے اللہ انہی معنوں میں ہماری توقعات سے بڑھ کر اس کی تعبیر کو پورا فرمائے۔اب میں جماعت احمد یہ عالمگیر کو نئے سال کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ماریشس کی سرزمین کی یہ خوش قسمتی ہے کہ آج اس مبارکباد کے ساتھ جو میں ایک تاریخی تحفہ جماعت احمد یہ عالمگیر کی خدمت میں پیش