خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 353 of 682

خطبات وقف جدید — Page 353

353 حضرت خلیفہ مسیح الرابع بہت زیادہ پورا کرے۔جو ہم میں سے دُکھی ہیں ان کے دُکھ دور فرمائے جن کے سروں پر خطرات منڈلا رہے ہیں ان خطرات کو دُور کر دے اور باطل ثابت کر دے۔ہمارے نقصانوں کو اپنے فضل سے پورا کرے اور ہمارے نفعوں کو بڑھا دے اور ہر پہلو سے جماعت کے لئے دنیا میں بھی اور آخرت کے لحاظ سے بھی یہ آنے والا سال پہلے سال سے بہت بہتر ثابت ہو۔یہ چونکہ سال کا آخری خطبہ ہے اس لئے روایات کے مطابق میں اسی خطبے میں وقف جدید کے سال نو کا اعلان بھی کرتا ہوں۔جیسا کہ آپ کو معلوم ہے وقف جدید کی تحریک پہلے پاکستان اور ہندوستان میں کال یا محدود تھی ان معنوں میں کہ چندہ بھی انہی دوملکوں سے وصول کیا جاتا تھا اور خرچ بھی انہی دو ملکوں پر کیا جاتا تھا۔گذشتہ چند سال سے میں نے یہ تحریک کی کہ تمام دنیا پر ہند اور پاکستان کے احسانات ہیں اور ایک لمبا عرصہ گذر گیا، تقریباً ایک صدی ہوگئی کہ ہندوستان اور پاکستان سے خدا کی راہ میں عظیم مالی قربانی کرنے والوں نے تمام دنیا میں پیغام حق کا بوجھ اٹھایا تو جذبہ تشکر کے طور پر ایک تھوڑ اسا ٹوکن اس بات کا انکے حضور پیش کریں۔یعنی ٹوکن سے مراد ہے کہ ایک مثال کے طور پر کچھ قربانی کا نمونہ ان کے سامنے پیش کریں اور باقی دنیا کی جماعتیں یہ کہیں کہ ہم بھی تمہارے لئے کچھ چندہ اکٹھا کرتے ہیں جو تم پر خرچ ہوگا۔اس پہلو سے وقف جدید کی مالی تحریک کو سارے عالم پر ہم نے محیط کر دیا تھا سارے عالم پر اس کا اطلاق کر دیا تھا اور یہ فیصلہ کیا تھا کہ آئندہ سب جماعتیں کچھ نہ کچھ ہندوستان اور پاکستان میں چلنے والی اس تحریک کی مدد کریں۔اس تحریک کے بعض خاص ایسے پہلو ہیں جن کو جماعت کو پیش نظر رکھتے رہنا چاہئے۔یہ تحریک غیر معمولی چندے طلب نہیں کرتی لیکن اس کا زور اس بات پر ہے کہ زیادہ سے زیادہ احمدی حسب توفیق بشاشت کے ساتھ خوشی کے ساتھ کچھ نہ کچھ ضرور خدا کی راہ میں پیش کریں۔باقی تحریکات میں زیادہ تر مقابلے اس بات کے ہوتے ہیں کہ کون آگے بڑھتا ہے اور کون زیادہ خدا کی راہ میں لٹاتا ہے۔اس تحریک میں ملکوں کے مقابلے ہیں کہ کتنے زیادہ افراد خدا کی راہ میں مالی قربانی میں شامل ہوتے ہیں بچے بھی ، عورتیں بھی ،مرد بھی ، بڑے بھی ، چھوٹے بھی سب مل کر اور جہاں تک شمولیت کا تعلق ہے جتنی بھی کوئی تو فیق پاتا ہے اس کی دی ہوئی رقم کو خوشی سے قبول کیا جاتا ہے۔وقف جدید کے لئے جو کم سے کم معیار پاکستان میں مقرر تھا وہ چھ روپے کا تھا۔لیکن اس چھ روپے کے متعلق بھی ہم نے یہ اجازت دی تھی کہ اگر ایک غریب خاندان ہے جو سال میں چھ روپے بھی نہیں دے سکتا مثلاً ایسے خاندان میں چھ افراد ہیں ان میں سے ہر شخص چھ روپے نہیں دے سکتا تو وہ سارے مل کر ایک ایک روپیہ سال کا دے دیں اور مشترکہ طور پر کم سے کم معیار کو