خطبات وقف جدید — Page 266
266 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع جو تم میں سے تھا۔اور تمہاری زمین اس کا وطن تھا اور اس کا ماویٰ اور مولد تھا۔اور تمہارے لئے یہ فخر کافی ہے جو تمہیں اس نبی محمد مصطفیٰ سید الاصفیاء اور فخر الانبیاء اور خاتم المرسلین اور امام الوریٰ کی وجہ سے صلى الله میرے اللہ ! زمین کے قطرات اور ذرات اور زندوں اور مردوں اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور ہر ظاہر و باطن کے شمار کے مطابق رحمت اور سلامتی اور برکت نازل فرما حضرت محمد مصطفی ﷺ پر۔اور ہماری طرف ع سے ایسی سلامتی بھیج جو آسمان کی اطراف کو بھر دے خوشخبری ہے اس قوم کیلئے جومحمد ﷺ کی غلامی کا طوق اپنی گردن پر اٹھاتی ہے اور خوشخبری ہے اس دل کیلئے جو اس کے حضور تک پہنچ گیا اور اس سے جاملا۔اور اس کی محبت میں فنا ہو گیا۔اے اس زمین کے رہنے والو! جس پر محمد مصطفی ﷺ کے قدم پڑے، اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے تم سے راضی ہو اور تمہیں خوش رکھے۔تمہارے بارہ میں میری رائے بہت بلند ہے اور میری روح میں تم سے ملاقات کیلئے پیاس ہے۔اے اللہ کے بندو! میں تمہارے ملک اور تم لوگوں کی برکات کے دیکھنے کا بہت شوق رکھتا ہوں تا کہ میں خیر الوری لے کے قدم پڑنے کی جگہ کی زیارت کروں اور اس مٹی کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بناؤں اور اسکی بھلائی اور اسکے اچھے لوگوں کو دیکھوں اور اس کے نشانات اور علماء سے ملوں اور میری آنکھیں اس ملک کے اولیاء اور بڑے بڑے غزوات کے مقامات کو دیکھ کر ٹھنڈی ہوں۔میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے تمہاری زمین کا دیکھنا نصیب کرے۔اور مجھے اپنی بڑی مہربانی کی بناء پر تمہارے دیکھنے سے خوشی پہنچائے۔اے میرے بھائیو! میں تم سے محبت کرتا ہوں تمہارے ملک سے محبت کرتا ہوں تمہارے راستوں کی ریت اور تمہاری گلیوں کے پتھروں سے محبت کرتا ہوں اور تمہیں دنیا کی ہر چیز پر ترجیح دیتا ہوں۔اے عرب کے جگر گوشو! اللہ تعالیٰ نے تم کو بہت بڑی بڑی برکات اور بہت سے فضلوں سے سرفراز فرمایا ہے اور بڑی رحمتوں کا مرجع بنایا ہے۔تم میں اللہ کا وہ گھر ہے جس کی وجہ سے ام القری کو برکت دی گئی ہے۔اور تم میں نبی کریم ﷺ کا روضہ ہے جس نے دنیا بھر میں توحید کی اشاعت کی ، اللہ تعالیٰ کا جلال ظاہر کیا۔اور تم سے وہ قوم نکلی جس نے اللہ اور رسول سے پورے دل اور پوری روح اور پوری عقل کیساتھ محبت کی اور اپنے مال اور اپنی جانیں اللہ کے دین اور اسکی پاکیزہ ترین کتاب کی اشاعت کے لئے خرچ کر دیں۔پس تم ان فضائل کے ساتھ مخصوص ہو اور جس نے تمہاری عزت نہیں کی وہ ظالم اور حد سے بڑھنے والا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام " حمامة البشرى “ کے سرورق پر اپنا یہ شعر درج الله 66 فرماتے ہیں۔حَمَامَتُنَا تَطِيـ ا تَطِيرُ بِرِيشِ شَوْقٍ وَفِي مِنْقَارِهَا تُحَفُ السَّلَامِ