خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 242 of 682

خطبات وقف جدید — Page 242

242 حضرت خلیفة المسیح الثالث اور احمدی دیہات کی نسبت کم نہیں ہوئی بڑھتی چلی جاتی رہی ہے۔ہم خوش ہیں کہ اللہ تعالی زیادہ سے زیادہ صلى الله انسانوں کو اپنے قرب کی راہیں دکھلا رہا ہے اور وہ نور جو محمدیہ نوع انسان کے لئے لے کر آئے تھے زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگ اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ، ہر سال اس میں زیادتی ہو رہی ہے لیکن تربیت کرنے والوں کی تعدا د نسبتا کم ہو رہی ہے۔دیہات کی تعداد بڑھنے کے نتیجہ میں۔اس لئے اس وقت اشد ضرورت وقف جدید کو وقف جدید کے واقفین کی ہے۔وقف جدید کے واقفین کی علمی قابلیت کا معیار اور ہے۔وہ جامعہ کے پڑھے ہوئے شاہدین نہیں۔واقفین وقف جدید کی اپنی تربیت اور تعلیم کا ایک علیحدہ نظام ہے۔واقفین وقف جدید جو ہیں عمروں کے لحاظ سے چھوٹی عمر کے اور تجربہ کے لحاظ سے کم تجربہ ہیں۔اس لئے ایک تو میں نصیحت کروں گا انجمن وقف جدید کو کہ جو واقفین وقف جدید ان کے پاس ہیں ان کی علمی اور علم کی بنیاد پر اخلاقی اور روحانی تربیت میں زیادتی کرنے کا ایک منصوبہ بنائیں اور وہ منصوبہ حضرت مسیح موعود کی تحریرات کے پڑھنے، سمجھنے اور اس کے نتیجہ میں وہ اثر قبول کرنے کا ہو جو ایک متقی دل ان کتب کو پڑھ کے اثر قبول کرتا ہے۔اگر ہر واقف وقف جدید کے ذمے یہ لگایا جائے کہ ہفتے کے سات دنوں میں ہر روز وہ کم از کم پندرہ صفحات کتب ( حضرت اقدس) کے پڑھے گا تو اس کے نتیجہ میں ان کا علم بھی بڑھے گا اور ان کی توجہ اپنے نفس کی اصلاح کی طرف بھی زیادہ ہوگی اور دوسروں کی تربیت کرنے کی قابلیت بھی بڑھ جائے گی اور جیسا بھی وہ لکھنا جانتے ہیں میں صفحے پڑھ کر کم ازکم پانچ باتیں وہ اپنی کا پی پرلکھیں کہ ہم نے ان صفحوں میں یہ باتیں خاص طور پر پڑھیں جو ہمارے کام آنے والی ہیں تربیت وغیرہ کے لحاظ سے۔جماعت سے میں یہ کہوں گا کہ اس وقت سو سے بھی کم واقفین وقف جدید ہیں۔یہ ہماری ضرورت کا بیسواں حصہ بھی پورا نہیں کرتے۔اس واسطے ایسے نوجوان جو سکول کی قابلیت کے لحاظ سے ان کے قواعد پر پورے اترتے ہوں اور دل میں جذبہ رکھتے ہوں خدمت اسلام اور تربیت کی قابلیت بھی رکھتے ہوں یعنی ان کی اپنی بھی تربیت ہو چکی ہو، یہ نہ ہو کہ اپنے گھر میں آنکھیں بند کر کے گالیاں دینے کی عادت لے کر وہ وقف جدید میں آجائیں۔جو ظاہر کی چیزیں ہیں موٹی موٹی ، کم از کم اس لحاظ سے وہ مہذب اور تربیت یافتہ ہونے چاہئیں۔اور دل کا تقویٰ جسے اللہ بہتر جانتا ہے نہ میں فیصلہ کر سکتا ہوں نہ آپ ،لیکن روح کا جذ بہ جو ظاہر ہوتا ہے اور جس کا ہم بھی فیصلہ کر سکتے ہیں وہ ہونا چاہئے اور اس کے لئے ہر ہفتے میرا یہ پیغام ہر گاؤں میں پہنچایا جائے کہ ہمیں بچے دو۔ہمیں بچے دوتا کہ بڑوں کی ہم تربیت کر سکیں۔ہمیں بچے دو تا کہ ہم آئندہ آنے والی نسل کی ابتدائی تربیت کر سکیں۔