خطبات وقف جدید — Page 168
168 حضرت خلیفہ المسح الثالث خطبه جمعه فرموده یکم جنوری 1971 ء بیت المبارک ربوہ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: " آج سال کا پہلا دن ہے۔نیا سال آپ سب کو مبارک ہو۔نیا سال محمد رسول اللہ ﷺ کے سارے غلاموں کومبارک ہو۔نیا سال انسانیت کو مبارک ہو۔جو سال گذر چکا ہے وہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے لئے اندرون پاکستان بھی اور بیرون پاکستان بھی بڑی ہی برکتوں کا موجب تھا۔اللہ تعالیٰ کی رحمت اور پیار کے بڑے حسین نظارے ہم نے گذشتہ سال دیکھے ہمارے دل اس کی حمد سے معمور ہیں۔سالِ نو ایک عید سے شروع ہورہا ہے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ بھی تمہارے لئے ایک عید ہے۔جمعہ کا ایک پہلو اجتماعی زندگی کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتا ہے اور اجتماعی برکات اور رحمتوں کا موجب بن جاتا ہے۔حسن و احسان کے جو جلوے ہم اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات سے دیکھتے ہیں اس کے نتیجہ میں حسد و عناد کا پیدا ہونا ضروری ہے اور حسد و عناد کا بڑا ہتھیار دروغ گوئی اور کذب بیانی ہے۔اس کا دفاع جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھایا ہے وہ عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنا اور ماسوا اللہ کی چیز پر بھروسہ نہ رکھنا اور سب کچھ اور سب خیر و برکت اپنے رب کریم سے حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔اسلام کے عظیم دور کے ساتھ ہی حسد کا دور ، عناد کا دور مخالفت کا دور اور ظلم کا دور شروع ہوا تھا۔قرآن کریم نے ابتدا ہی سے ہمیں تعلیم دی تھی کہ حاسد کے حسد کے شر سے بچنے کیلئے تم اپنے رب کی طرف رجوع کرنا اور اپنی حفاظت اسی سے چاہنا۔انعام جب بے شمار ہوں ، انعام جب معمول سے زیادہ ہوں، پیار جب ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر بن جائے تو حسد اور مخالفت اور عناد میں بھی شدت پیدا ہو جاتی ہے۔لیکن مظلوم ہونے کے باوجود اور حسد کا نشانہ بنے اور ظلم کا ہدف ہونے کے باوجود ہم پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے اور ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ کسی کو دُکھ نہیں پہنچانا، کسی کی جان پر حملہ نہیں کرنا کسی کا مال غصب نہیں کرنا کسی کو بے عزت نہیں کرنا اور کسی پر حقارت کی نگاہ نہیں ڈالنا بلکہ جب انسان اللہ کی گود میں اس کے فضل سے آئے تو اس کے دستِ قدرت نے جو پیدا