خطبات وقف جدید — Page 100
100 حضرت خلیفتہ امسح الثالث دیکھ کر ہی بتایا جاسکتا ہے کہ کون سا معلم اہل ہے اور کون سا نا اہل۔جواہل ہوا سے رکھ لیا جائے اور جو نا اہل ثابت ہوا سے فارغ کر دیا جائے اور اس کی جگہ اور رکھ لیا جائے اور ہمیں اس وقت تک ایسا کرنا پڑے گا جب تک ہماری ضرورت پوری نہ ہو جائے۔پھر جماعت کی ذیلی تنظیموں انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماء اللہ کو بھی اپنے منصوبے اور پلان (Plan ) ریوائز (Revise) کرنے چاہئیں انہیں مزید غور کے بعد ان میں کچھ تبدیلیاں کر لینی چاہئیں اور اس اصول کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ وہ ایسے کاموں کی طرف توجہ نہ دیں جو ان کے سپرد نہیں کئے گئے اور ان کاموں کو نظر انداز نہ کریں جو ان کے سپرد کئے گئے ہیں کیونکہ فرائض کو چھوڑ کر نوافل کی طرف متوجہ ہونا کوئی نیکی نہیں اور نہ ہی اس کے اچھے نتائج نکلتے ہیں۔پس جماعت کی ان ذیلی تنظیموں کو اپنے مفوضہ فرائض احسن طور پر بجا لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ ان کے کاموں میں برکت دے کہ وہ جماعت کی مضبوطی کے لئے قائم کی گئی ہیں اور اگر یہ تنظیمیں اپنے فرائض کو پوری طرح ادا کریں تو یہ جماعت کے لئے بہت برکت کا موجب بن سکتی ہیں اور خدا تعالیٰ کی رحمتوں کو جذب کر سکتی ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں ایسا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔آخر میں میں پھر آپ سب دوستوں کو جو احمدیت کی طرف منسوب ہوتے ہیں انہیں بھی جو یہاں میرے سامنے بیٹھے ہیں اور انہیں بھی جو دنیا کے مختلف ممالک میں رہتے ہیں اپنے دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں اس معنی میں بھی کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ پر اپنا فضل نازل کرتا رہے۔اور اس سال جو اب شروع ہوا ہے خدا تعالیٰ کے فضل، اس کی رحمتیں اور برکتیں پچھلے سالوں سے زیادہ آپ پر نازل ہوں اور اس معنی میں بھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو روحانی میدان جنگ میں ثبات قدم عطا فرمائے اور آپ طاغوتی طاقتوں کو دنیا کے کناروں تک دھکیلتے ہوئے جہنم میں جلد تر پھینکنے والے بن جائیں اور پھر میں آپ کو اس معنی میں بھی مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ پر اپنی برکتیں زیادہ سے زیادہ نازل کرے اور آپ کو اور مجھے اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ جو وسائل اور اسباب اس نے ہمیں دیئے ہیں ہم ان کا استعمال بہترین طور پر اور کسی منصوبہ بندی کے ماتحت اور منظم طریقہ سے کریں۔آمین۔وَمَا تَوْفِيْقُنَا إِلَّا بِاللَّهِ الفضل مورخہ 15 /جنوری 1966 ء)