خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 793 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 793

خطبات طاہر جلد ۹ 793 خطبہ جمعہ ۲۸ / دسمبر ۱۹۹۰ء ہے۔تیری عبادت کرتا ہوں اس لئے اب میں تجھ پر تیرا خدا بن کر ابھروں گا اور تجھے یہ حق عطا کرتا ہوں کہ تو کہہ سبحان ربی العظیم پاک ہے میرا رب جو میرا رب ہے۔اب یہاں جو غائب تھا وہ غائب نہ رہا جو سب کا تھا وہ سب کا ہوگا بھی لیکن یہاں اپنا بن کے ابھرا ہے اور میرا رب بن کے ابھرا ہے۔پس جس کا رب عظیم ہو تو اس کو بھی عظمتوں سے حصہ ملے گا اس میں یہ خوشخبری بھی عطا کر دی گئی ہے کہ اب تو عام انسان نہیں رہا تو نے ایک ایسی ذات سے تعلق جوڑ لیا ہے اور اس کو اپنا بنالیا ہے اور وہ تیرا ہو چکا ہے کہ اب اس کی عظمتوں سے تجھ کوحصہ دیا جائے گا اور جب وہ سجدہ میں جاتا ہے اور دنیا کی نظر میں بالکل ذلیل اور رسوا ہو جاتا ہے یعنی اس سے زیادہ دنیا کی نظر میں انسان کے لئے کیا رسوائی ہوسکتی ہے کہ وہ اپنا ماتھا کسی کے حضور خاک پر رگڑنے لگے، وہاں اس کے دل سے یہ آواز اٹھتی ہے سبحان ربی الاعلیٰ وہ رب جسے میں نے اپنا بنالیا ہے جس نے مجھے اپنا بنا لیا ہے وہ ہر دوسری چیز سے بلند تر اور اعلیٰ ہے اور اس کے مقابل پر کسی اور چیز کی کوئی حیثیت نہیں تو خدا کے علم میں سے خدا کا بلند مرتبہ ہونے میں سے ان عاجز بندوں کو بھی حصہ عطا کیا جاتا ہے اور اس طرح ضمائر کا مضمون دیکھیں کہاں سے شروع ہو کر کہاں تک پہنچتا اور بظاہر سجدے کی انتہائی جھکی ہوئی حالت میں ہے لیکن اس جھکی ہوئی حالت میں یہ مضمون اپنے معراج کو پہنچ جاتا ہے اور انسان کو یہ سبق دے جاتا ہے کہ اس کی ہر ترقی کا راز اس کے عجز میں ہے۔جتنا زیادہ وہ خدا کے حضور گرے گا اور جھکے گا اتنا ہی زیادہ اسے سر بلندی عطا کی جائے گی۔پس ضمائر کے لحاظ سے بھی آپ دیکھیں تو نماز ایک عظیم الشان پیغام رکھتی ہے اور گہرے سبق رکھتی ہے اس کے علاوہ نماز میں زمانوں کو بھی اس رنگ میں استعمال فرمایا گیا ہے کہ ایک بہت ہی دلکش مضمون ہمارے سامنے ابھرتا ہے اور ہمارے دماغوں کو روشن کرتا چلا جاتا ہے لیکن میں گھڑی کو دیکھ رہا ہوں۔اب چونکہ وقت تھوڑا رہ گیا ہے چند اور باتیں بھی نماز سے متعلق کہنی باقی ہیں۔اس لئے انشاء اللہ آئندہ جمعہ پر ہی اگر وقف جدید کی باتیں کرنے کے بعد وقت بچاور نہ پھر اس سے آئندہ جمعہ پر اس مضمون کو جاری رکھیں گے۔