خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 745
خطبات طاہر جلد ۹ 745 خطبہ جمعہ ۷ دسمبر ۱۹۹۰ء میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں لیکن ایسے عظیم مضامین ہیں کہ جن کا سمجھانا بھی مشکل ہے لیکن یہ میں یقین دلاتا ہوں کہ ایک ہی علاج ہے اور صرف ایک ہی۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا دروازہ کھول کر ذکر الہی میں مصروف ہوں۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں یا تیری ہی عبادت کریں گے مگر کس طرح إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ تجھ سے ہی مدد مانگتے ہوئے۔اگر تیری مدد نصیب نہ ہو تو ہم نہیں کر سکتے۔میں نے آپ کو بتایا تھا کہ یہاں عبادت میں حمد کا مضمون داخل ہے۔سچی حمد کے بغیر عبادت کا حق ادا ہو ہی نہیں سکتا اور سچی حمد نہ ہو عبادت کے ساتھ تو اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کی دعا قبول نہیں ہو سکتی۔کیونکہ حد کا قبولیت دعا سے گہرا تعلق ہے۔چنانچہ اسی مضمون کو رکوع سے اٹھتے وقت جو کلمہ کہتے ہیں وہ کھول دیتا ہے۔وہ کلمہ یہ ہے سمع اللہ لمن حمدا۔اللہ اُس کی سنتا ہے جو اُس کی حمد کرتا ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ میں ہمیں یہی تو بتایا گیا تھا کہ خدا سے عرض کرو کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اس لئے تجھے ہی فرماتے ہیں کہ اے خدا! ہماری مدد فرما، ہماری دعا قبول کر لیکن عبادت حمد سے خالی نہیں ہونی چاہئے ورنہ یہ دعا نا مقبول ہو جائے گی۔اس مضمون کو سمع اللہ لمن حمد نے کھول دیا کہ اللہ سنتا ضرور ہے اور اُس کی سُنتا ہے جو اُس کی حمد کرتے ہیں۔حمد کے ذریعے تعلق قائم ہوتا ہے۔پس خدا سے حمد کا تعلق قائم کریں، اپنی روز مرہ کی زندگی میں یہ تعلق بڑھا ئیں پھر عبادت میں جب اُس کے حضور حاضر ہوں گے تو آپ کو ہر عبادت کے وقت ایک قریب تر آیا ہوا خدا دکھائی دے گا جس کے بہت سے تعلقات آپ سے قائم ہو جائیں گے۔جتنی حمد آپ سوچیں گے اتنے ہی محبت کے رابطے خدا تعالیٰ سے بڑھنے شروع ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔